سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 377
377 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کیا بلکہ ہر فرد کے آنے پر خوشی کا اظہار فرماتیں اور اپنی شفقت و رحمت کے دامن کو اتنا وسیع کرتیں کہ آنے والا اپنے گھر سے زیادہ راحت پاتا۔مہمان نوازی کے واقعات اور عجائبات بے انتہاء ہیں۔مجھے مختصر اتنا ہی کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو مہمانوں کی کثرت کی بشارتیں دی تھیں اور ان کی ضروریات کے انصرام کا بھی آپ ذمہ لیا تھا اور حقیقی مہمان نوازی کے لئے ام المؤمنین کو بھیج دیا۔۳۔سیر چشمی اور فیاضی حضرت ام المؤمنین کا دل اتنا ہی وسیع اور ہاتھ اتنے ہی لمبے ہونے چاہئیں تھے جو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی بشارتوں کی تجلیات کے مظہر ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس مختلف رنگ کے سائل اور محتاج آتے۔حضرت اُم المؤمنین اس راستہ میں نہ کبھی روک ہوتیں اور نہ کبھی برا مناتیں کہ میرے گھر کی متاع کا ایک حصہ یوں با ہر جا رہا ہے۔بلکہ آپ کو خوشی ہوتی کبھی آپ کے چہرہ پر نہ شکن آتا اور نہ کسی قسم کا خیال گزرتا بلکہ آپ دریا دلی سے کام لیتیں اور اب تک یہ عادت ہے اور میں تو ایمانی رنگ میں کہتا ہوں کہ انہیں بے انتہا مسرت ہوتی ہے جب وہ کسی کے ساتھ سلوک کا موقعہ پاتی ہیں اور خدا کی حمد اور شکر کرتی ہیں۔غرباء کی خبر گیری اور حاجت مندوں کی ضروریات کو پورا کرنا آپ اپنی زندگی کا بہت بڑا مقصد سمجھتی ہیں۔میں نے سالہائے دراز تک دیکھا کہ سردیوں کے موسم میں پچاس لحاف تیار کر کے تقسم فرمایا کرتی رہیں۔آپ کا گھر ہمیشہ یتامی ، مساکین اور بیوگان کا پناہ گاہ رہا اور آپ نے ان سے خادموں کا سا نہیں عزیزوں کی طرح سلوک فرمایا۔یہ باب بے انتہا تفصیل اپنے اندر رکھتا ہے شائد دوسرے لوگ اپنے تاثرات میں بیان کریں۔۴۔معرفت صحابہ حضرت ام المؤمنین کی خصوصیات میں یہ امر بھی داخل ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خدام اور صحابہ سے پوری واقفیت رکھتی ہیں اور ایمانی رنگ میں جو جس قدر حضرت کے قریب تھے ام المؤمنین اسے خوب سمجھتیں اور ان کی قدر فرماتی ہیں اور جب ان میں سے کوئی حاضری کی