سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 376
376 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بصیرت کے ساتھ بلاخوف لومة لائم کہہ سکتا ہوں کہ انکا وجود فی الحقیقت خدا کی ایک رحمت اور نعمت ہے۔ان کے دل کی کیفیت جسے ان کے عمل نے نمایاں کیا۔شاعر کے اس مصرعہ میں ہے۔سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے حضرت اُم المؤمنین میں وہ تمام خوبیاں یکجائی طور پر جمع ہیں جو امہات المومنین علیہن الصلوۃ والسلام میں موجود تھیں۔حضرت اُم المؤمنین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی رسالت پر ایک لذیذ ایمان رکھتی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں اور آپ کے مرفوع ہونے کے بعد آپ کے خلفاء کے مقاصد وعزائم کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے ہر وقت آمادہ اور تیار رہتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں کوئی ایسی تحریک نہ ہوتی تھی جس میں آپ حصہ نہ لیتی ہوں اور خدمت سلسلہ میں آپ کی خدمات کا ایک یہ پہلو کس قدر قیمتی ہے کہ ابتداء میں باوجود خادماؤں کے۔مہمانوں کے لئے اپنے ہاتھ سے کھانا وغیرہ تیار کرتی تھیں اور کبھی اس قسم کی خدمات سے آپ نے گھبراہٹ کا اظہار نہیں فرمایا میں ایک بصیرت سے جانتا ہوں کہ ابتداء میں جب حضرت اقدس کا کھانا وغیرہ بڑے گھر سے آتا تھا اور مہمان وقت بے وقت آ جاتے اور حضور اکرام ضیف کے بہترین نمونہ تھے۔مجبوراً اسی گھر میں اطلاع دینی ہوتی تھی اور وہ اکثر برا مناتے اور کہہ دیتے کہ کرلو۔تمہارے پاس تو اسی طرح آتے رہتے ہیں ہم سے یہ نہیں ہوسکتا۔کوئی اور انتظام خدا کی اس نعمت کو انہوں نے رد کر دیا اور خدا تعالیٰ نے اس فضل کو سیدہ نصرت جہاں بیگم کے لئے مقرر کر رکھا تھا۔ادھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مہمانوں کے کثرت سے آنے کی بشارات دیں اور یہ بھی قبل از وقت بتا دیا کہ ان سے تھکنا اور گھبرانا نہیں ادھر ان کے لئے مہمان نوازی کے صحیح نظام کو قائم رکھنے کے لئے اپنے وعدہ کے موافق جو ہر چہ باید نو عروسی را ہمہ ساماں کنم میں کیا تھا حضرت سیدہ کو آپ کے نکاح میں لاکر انتظام کر دیا۔مہمان دن رات کے ہر حصہ میں پیدل سوار آ جاتے مگر حضرت ام المؤمنین نے کبھی نہ ان سے بے وقت آنے کی شکایت کی اور نہ اپنا دل چھوٹا