سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 356
356 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایسی حالت اور نا گہانی صدمہ کے وقت انسان شدت غم میں خدا تعالیٰ کی حدود سے باہر نہ جاوے اور جو کچھ سر پر گزرا اس کو خدا کی طرف سے سمجھ کر اسی سے صبر بھی مانگے اور ہر حال میں جیسا کہ ہم نے بیعت کے وقت منہ سے اقرار کیا تھا۔اپنے عملوں سے بھی کر دکھاوے کہ خدا کی رضا پر ہر طرح راضی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے دل کو صبر و قرار اور تسکین سے بھر دیتا ہے اور اس کے ایمان میں ترقی دیتا ہے۔دل پر جور نج گزرتا ہے وہ فطرتی ہے مگر کثرت ہموم کے وقت کسی ایسی بات کا ہو جانا ممکن ہے جو خدا کی نظر میں ناپسندیدہ ہو۔حضرت عائشہ ۱۸ سال کی تھیں جب رسول خدا صلعم نے وفات پائی۔انہوں نے اور آپ کی اور ازدواج نے جو نمونہ آپ کی وفات کے وقت دکھا یا وہ قابلِ تقلید نمونہ ہے۔تم بھی اس فرقہ کی عورتوں کیلئے نمونہ ہو۔احتیاط رکھنی چاہئے کہ ایسے موقعہ پر جبکہ مردوں کے چھکے چھوٹے ہوئے ہیں کوئی ایسی بات نہ ہو جس کی تقلید کر کے آئندہ امت کی عورتیں کوئی بُری رسم اختیار کر لیں۔تمہارے افعال ، تمہارے اقوال، تمہاری باتیں آئندہ کے لوگ سند پکڑیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کی رضا میں تمہاری ہر بات ہو اور کوئی نمونہ ایسا نہ چھوڑ جاؤ جس پر قیامت تک کسی کی حرف گیری ہو سکے۔عورت کے لئے خاوند کا مرنا سب سے بڑھ کر صدمہ اور غم ہے۔مگر ہمیشہ کیلئے نہیں۔اگر کوئی مر جاتا اور کوئی ہمیشہ کے لئے زندہ رہ جاتا تو واقعی یہ صدمہ سخت صدمہ تھا۔مگر جب سب ایک راہ چل رہے ہیں اور آگے پیچھے سب کو مرنا ہے تو اگر یہی سمجھ لیا جائے کہ مرنے والا سفر پر گیا ہے یا چند دن کے لئے غائب ہے اور پھر ہم اس کو ضرور ملیں گے اور یہ ملاقات ایسی ہوگی کہ پھر اس میں جدائی نہ ہوگی تو کیا یہ خوش آئند خیال نہیں ہے؟ ہاں اور لوگوں کو تو ڈر ہو سکتا ہے کہ بیوی شائد وہاں اپنے میاں سے یا میاں اپنی بیوی سے وہاں نہ مل سکے کیونکہ ہر ایک کو اپنے اعمال کے سبب اجر دیا جاوے گا اور انجام کی کس کو خبر ہے مگر یہاں تو یہ بات نہیں ہے ایمان لانے والی بی بی جو خدا تعالیٰ کی بشارت اور خوشخبری سے دنیا میں اس کے ساتھ رہی ہو وہ اگلے جہاں میں بھی اپنے میاں کے ساتھ ہوگی اور ضرور ہوگی۔جماعت احمدیہ کے لئے یہ ایک سخت ابتلا ہے۔پہلے وہ ایک بے فکر کی طرح تھے اور نام کے مددگار تھے۔اب ان کو معلوم ہوگا کہ کتنا بڑا کام وہ شخص اکیلا کرتارہا۔میرا ایمان ہے کہ اگر یہ فرقہ سچ ہے اور یقینا سچ پر ہے تو خدا اس کو ہر طرح کی ہلاکت سے بچالے گا اور ہر دشمن کی دشمنی سے محفوظ رکھے گا اور اسے دنیا کے اطراف میں پھیلا دے گا۔وہ شخص تو اپنا کام