سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 349 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 349

349 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ گیا۔وہاں معلوم ہوا کہ میرا نمبر سب سے اوپر ہے اور یہ سبب فسٹ ڈویژن کے مجھے بارہ روپے ماہوار وظیفہ بھی ملے گا۔غرض نام داخل کرا کر میں آ گیا یہاں آ کر ماہوار خرچ کا یہ انتظام ہوا کہ بارہ روپے ماہوار وظیفہ سرکاری، دس روپے حضرت والد صاحب کی طرف سے اور دس روپے حضرت اُم المؤمنین صاحبہ کی طرف سے۔اس طرح ماہوار خرچ بآسانی پورا ہو گیا۔جو ان دنوں کے مطابق کافی تھا۔اب رہی فیس اور کتابیں ان کے لئے پہلے سال تقریباً تین سو روپے داخل کرنا پڑے۔دوسرے اور تیسرے سالوں میں قریباً سو روپے اور چوتھے سال پھر قریباً تین سو پچاس روپے۔آپا صاحبہ نے ان دس روپے ماہوار اور فیسوں اور کتابوں کے لئے تمام رقم جمع کرنے کی یہ تجویز ہوئی کہ حضرت ام المؤمنین نے ایک صند و تچي مقفل جس میں روپے ڈالنے کا سوراخ بنا ہوا تھا۔حضرت والدہ صاحبہ کے پاس بطور امانت رکھوا دی اس صندوقچی میں قفل لگارہتا تھا اور دوسرے تیسرے روز حضرت اُم المؤمنین جو رو پیدان کے پاس ذاتی خرچ کا ہوتا تھا اس صندوقچی میں ڈال دیا کرتی تھیں جس میں سے دس روپیہ ماہوار والد صاحب کے دس روپیوں کے ساتھ مجھے لاہور پہنچ جایا کرتے تھے تو پچاس روپے فیس کے اور چارسو روپے نئی کتابوں کی قیمت دستی لے جایا کرتا تھا۔ان دنوں لاہور کے اخراجات بمقابل آج کل کے کم ہوا کرتے تھے۔میں اپنے تمیں پنتیس روپے ماہوار میں سے ایک مکان کرایہ پر لے کر رہا کرتا تھا اور ایک ملازم لڑ کا بھی جو باورچی کا کام کر سکتا ہو رکھا کرتا تھا اور ہم دونوں کا کھانا ، سقہ خاکروب، نائی دھوبی اور بالائی اخراجات سب اس میں پورے ہو جاتے تھے۔کپڑے رخصتوں کے ایام میں قادیان میں بن جایا کرتے تھے۔ساتھ ہی خدا نے یہ فضل بھی فرمایا کہ مجھے پانچوں سال برابر سرکاری وظیفہ ماتارہا۔اس طرح میری میڈیکل کالج کی تعلیم اس طرح ختم ہوئی۔جس میں بیشتر حصہ حضرت اُم المؤمنین کی طرف سے اور کچھ میرے وظیفہ کا اور دس روپے ماہوار حضرت والد صاحب کی طرف سے حصہ تھا۔میرا یقین ہے کہ حضرت اُم المؤمنین نے نہ صرف اپنی شفقت کو نباہا بلکہ وہ وعدہ بھی پورا کیا کہ اس بات کا علم سوائے میرے اور حضرت والدہ صاحبہ کے اور کسی کو بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی نہیں ہوا اور جو رو پیران کو اپنے ذاتی جیب خرچ کیلئے ملتا تھا اس میں مسلسل اتنے سال اپنے پر تنگی ترشی گوارا فرما کر انہوں نے میرے پر اتنا بڑا احسان فرمایا جس کے اظہار کا موقعہ اس سے بہتر اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ ان کی سیرت میں اسے درج کر کے ان کا ابتَاءِ ذَوِ القُربیٰ