سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 346
346 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ صحابہ اور صحابیات کی روایات اور تاثرات اس باب میں میں ان بزرگ صحابیات اور صحابہ کے تاثرات اور روایات بیان کروں گا جنھوں نے حضرت اُم المؤمنین (متعنا الله بطول حياتها ( کی مادرانہ شفقت و عطوفت سے سعادت حاصل کی ہے میرے پاس روایات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ اس خصوص میں ہے مگر میں ان سب کو درج کرنے سے قاصر ہوں اس لئے کہ کتاب کا حجم اس کی اجازت نہیں دیتا۔خصوصاً ان ایام میں جبکہ کاغذ کی گرانی اور کمیابی کی عالمگیر شکایت ہے۔اس لئے میں ان تمام محترم بزرگوں اور صحابیات سے معذرت خواہ ہوں کہ جن کی روایات کو میں درج نہ کر سکوں۔میں یہ بھی عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض جگہ میں ایک طویل بیان کا صرف اس قدر خلاصہ دینے پر مجبور ہوں گا جو سیرت کے کسی پہلو سے متعلق ہوسکتا ہے۔(عرفانی) حضرت میر محمد اسمعیل صاحب قبلہ کے تاثرات جیسا کہ میں جلد اوّل میں بیان کر آیا ہوں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ حضرت اُم المؤمنین کے حقیقی بھائی ہیں اور حضرت میر ناصر نواب صاحب کی ذکور زندہ رہنے والی اولاد میں بڑے بیٹے ہیں۔بھائی اور بہن کی محبت یوں تو فطرتی طور پر ایک مسلم چیز ہے مگر دنیا جانتی ہے کہ کتنے بھائی اپنی بہنوں کے حقوق کا اور کتنی بہنیں (خصوصاً جبکہ ان کو ایک مقام رفیع حاصل ہو ) اپنے بھائیوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں محبت اور شفقت کے مراتب کو کبھی نظر انداز نہیں ہونے دیتیں۔لیکن حضرت اُم المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم کی زندگی بہ حیثیت ایک بہن کے ایک نمونہ کی زندگی ہے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی زندہ رہنے والی اولاد میں حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ اور حضرت سید محمد اسمعیل صاحب اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب دو بھائی اور ایک بہن تھے۔آہ! حضرت میر محمد اسحاق صاحب اس جلد کی اشاعت کے وقت واصل باللہ ہو چکے ہیں اور ان کا مختصر تذکرہ بطور ضمیمہ لکھا گیا ہے اور مؤلف سیرت عرفانی صغیر بھی اپنے مولا سے جا ملا۔(عرفانی کبیر )