سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 347 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 347

347 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کو تو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ حضرت اُم المؤمنین نے ان کو اپنا دودھ بھی پلایا۔اس لئے کہ حضرت نانی اماں رضی اللہ عنہا دودھ نہیں پلا سکتی تھیں۔انا رکھی جاسکتی تھی مگر شفیق بہن بڑی بہن نے اپنے دودھ کو بھائی کیلئے قربان کر دیا اور اس طرح بڑی بہن تو خدا نے ان کو بنایا ہی تھا۔انہیں یہ شرف بھی عطا ہوا کہ اگر چہ وہ حضرت مسیح موعود نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی زوجہ مطہرہ ہو کر اُم المؤمنین روحانی طور پر تو ہیں مگر حضرت میر محمد اسحاق کے حصہ میں یہ شرف بھی آیا کہ وہ ائم المؤمنین اور حضرت مسیح موعود کے رضاعی بیٹے ہوں۔غرض حضرت اُم المؤمنین کی اس شفقت اور محبت کی جو ایک بہن کو اپنے بھائیوں سے ہونی چاہئے یہ ایک جھلک ہے۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب قبلہ کے تاثرات کو ان کی اپنی زبان سے سنو۔میں نے اس خاندان کے حالات میں ایک بات کو نمایاں کیا ہے کہ یہ لوگ حق گو اور حق پسند تھے۔حضرت میر ناصر نواب کی صداقت پسندی اور دلیری الم نشرح ہے۔اللہ تعالیٰ نے ریاء اور نفاق، خوشامد و خود غرضی سے ہمیشہ انہیں محفوظ رکھا اور یہ خصوصیات ان کی اولاد میں بھی موجود ہیں۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کا بیان کسی امر کے متعلق ہو بالکل ایک حقیقت اور کھلی ہوئی صداقت ہوتا ہے جس میں غلو، خوشامد یا ظاہر داری کو کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ ایک بے ریا صادق مسلم ہیں۔اس لئے ان کا بیان بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔میں یہاں ایک وہم کا ازالہ کر دینا نہایت ضروری سمجھتا ہوں بعض نادان گھر والوں کے تاثرات کو یہ کہہ کر مشکوک کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں کہ یہ ذاتی تعلق یا رشتہ کا نتیجہ ہے۔حالانکہ حق یہ ہے کہ گھر والوں سے بہتر حالات کا واقف کون ہوسکتا ہے! حضرت نبی کریم ﷺ کی صداقت کے بے انتہا دلائل میں سے یہ دلیل سب سے زیادہ قوی اور مؤثر ہے کہ ازواج مطہرات بھی آپ پر ایمان رکھتی ہیں۔یہ ایک فلسفہ ہے جس کے نہ سمجھنے سے لوگوں نے ٹھو کر کھائی اور خود مسلمانوں کے اندرونی جھگڑوں میں ایسی روایات پر جرح کی گئی۔پس حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کے تاثرات حضرت اُم المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم کی سیرت کے اس حصہ پر جو بہن اور بھائی کے تعلقات سے وابستہ ہے ایک مؤثر حقیقت ہے۔اب میں بغیر کسی مزید تمہید کے ان کے اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہوں۔حضرت میر صاحب نے اپنے متعلق صرف ایک واقعہ بیان کیا ہے اور یہ ہے بھی سچ کہ وہ اپنی زندگی کے بے شمار واقعات