سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 339
339 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایک دفعہ حضرت نے دریافت فرمایا کہ فلاں جگہ تم کیوں گئیں تھیں عاجزہ کے عرض کرنے پر کہ کہیں نہیں گئی تھی فرمایا کہ برقعہ تو تمہارا یا تمہارے جیسا تھا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ جس کام کو وہ اپنے ذمہ لیتیں ہیں اس کو وہ کس خوبی سے نباہنے کی عادی ہیں۔تاگہ کا تنا ایک دفعہ دیکھا کہ چرخہ لے کرتا گا کات رہی ہیں۔میں جب حاضر ہوئی تو فرمایا کہ کیا تمہیں چرخہ کا تنا آتا ہے میں نے عرض کیا نہیں تو پھر آپ نے مجھے اپنے آغوش میں لے کر مجھے سکھلا یا اس میں آئندہ نسلوں کو یہ سبق ہے کہ بیکار نہ رہیں اور کوئی نہ کوئی مفید کام کرتے رہیں یا ممکن ہے کہ زمانہ ایسا پلٹا کھائے کہ ہم میں سے اکثروں کو چرخہ کا تنا پڑے۔حضرت مسیح موعود اور آپ کے خلفاء پر راسخ ایمان باوجود اس کے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چہیتی بیوی اور حرم محترم ہیں لیکن اس تعلق زوجیت سے بڑھ کر حضرت اُم المؤمنین اپنے تعلق روحانیت کو زیادہ عزیز رکھتی ہیں۔جیسا کہ ہم وابستگان دامن مسیح موعود علیہ السلام جس طرح اور جن القاب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں اسی طرح وہ بھی ادب سے یاد فرماتی ہیں جب کبھی بھی وہ حضرت صاحب کا ذکر فرما ئیں گئیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا حضرت صاحب یا حضرت اقدس فرمائیں گیں۔اسی طرح حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کوبھی یاتو میاں صاحب کہیں گیں یا خلیفہ مسیح فرما ئیں گیں۔ظل عاطفت آپ بالعموم جب سیر کو تشریف لے جاتیں ہیں تو جاتے جاتے یا آتے آتے احمدی اصحاب کے گھروں میں ایک ایک دو دو منٹ کے لئے تشریف لے جاتیں ہیں اور ہر گھر کو ان کے مناسب حال ضروری ہدایات دے آتی ہیں۔مثلاً گھروں کی صفائی ، لباس کی صفائی، بچوں کی دیکھ بھال یا علاج معالجہ کے متعلق مشورہ دے دیتیں ہیں۔اس طرح آپ جماعت کے حالات سے باخبر رہنے کی کوشش