سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 333
333 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور خاندانِ نبوت کی تمام محترم و قابل عزت ہستیوں کو دیکھنے کی عزت حاصل رہی۔میں بوجہ ایسے خاندان سے قریبی ربط رکھنے کے جو کہ مرشدی گھرانہ کہلاتا ہے اس امر سے زیادہ واقف اور باخبر تھی کہ عموماً مشایخین سجادہ نشینوں کے گھروں کی معاشرت و طرز معیشت وطریق تہذیب و تمدن ولباس کا رنگ ڈھنگ بات چیت کا طور و طریق کیسا ہوتا ہے۔میرے والد مرحوم حضرت مولانا میر محمد سعید صاحب قادری احمدی مرحوم ( خدا تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے ) ایک جید مشائخ مولانا حضرت شاہ عبد العزیز صاحب کشمیری مرحوم و مغفور کے واحد فرزند تھے جن کے مریدین کا حلقہ دو تین لاکھ سے کم نہ تھا اسی طرح میرے ننھیالی قریبی رشتہ کے نانا حضرت مسکین شاہ صاحب نقشبندی جو مرحوم اعلیٰ حضرت نظام دکن اور حیدر آباد ملک کے پانچ لاکھ مریدین کے مرشد تھے۔نیز میرے سسرالی رشتہ داروں میں مولوی سید عمر علی شاہ صاحب مکی میاں صاحب وغیرہ جو میرے چچا خسر ہوتے تھے بڑے مرشد تھے اس لئے فطرتا اس ماحول کو جس سے میں بہت حد تک مانوس و واقف تھی خاندان نبوت میں قیاس کرنے پر مجبور تھی مگر میرے ذاتی مشاہدات نے میری تمام قیاس آرائیوں پر پانی پھیر دیا مجھے نہ ائم المؤمنین میں اور نہ خاندان نبوت کی کسی خاتون میں یہ بات نظر آئی کہ وہ گفتگو و ملاقات میں کسی قسم کا تکلف کرتی ہیں یا بناوٹ کا پہلو اختیار کرتی ہیں یا کوئی خاص قسم کا مشائخانہ یاصوفیانہ لباس زیب تن فرماتی ہیں یا دنیاوی زیب وزینت واشیاء سے اس قدر متنفر ہیں کہ گویا رہبانیت اختیار کر رہی ہیں بلکہ حضرت اُم المؤمنین اور خاندان نبوت کے اس پاکیزہ و بے ریا عمل کا اس قدر گہرا اثر ہر غائر نظر سے دیکھنے والے پر پڑتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان پاک قلوب کے آئینہ میں ریا و بناوٹ میں خود کو ملوث دیکھتا ہے مجھے خوب یاد ہے اور میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب کہ میں اپنی خوشدامن صاحبہ مرحومہ کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم محض حضرت ام المؤمنین کے فیض صحبت کی وجہ سے دیکھا وہ یہ کہ میری خوشدامن صاحبہ ایک بڑے امیر کبیر گھرانے کی خاتون تھیں جو ۲۷ سال میں ہی تین لڑکے اور ایک لڑکی کی ماں ہو کر بھر پور جوانی میں بیوہ ہو گئیں تو انہوں نے اپنی جوانی اور بیوگی کو اس قدر سادگی اور صوفیانہ رنگ میں گزارا کہ جب میری شادی ہوئی اور ان کے خاندانی طمطراق اور خدم و حشم اور امارت کے مدنظر ان کو معمولی لباس میں ملبوس دیکھا تو مجھے سخت حیرت ہوئی مگر جبکہ میری یہی خوشدامن صاحبہ مرحومہ حضرت اُم المؤمنین کی صحبت میں چند ماہ رہیں تو یہ دیکھا کہ کوئی روز ناغہ ہوتا تھا کہ وہ اس ضعیفی میں کنگھی چوٹی کر کے پاک وصاف لباس اور خوشبوئی وغیرہ کا استعمال کر کے حضرت اُم المومنین کی خدمت میں روزانہ جایا کرتی ہوں اور اس کے