سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 332
332 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بسم الله الرحمن الرحيم حضرت اماں جان از محتر مہ امتہ اللہ بشیرہ بیگم صدر لجنہ اماءاللہ حیدر آباد دکن اہلیہ مولوی سید بشارت احمد صاحب امیر جماعت حیدر آباد دکن دامان نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار گلچیں میں بہار تو ز دامان گله دارد ایک مدت سے مجھے خیال تھا کہ حضر تہ اُم المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کے شمائل پر میں اپنے دیرینہ ذاتی مشاہدات میں سے لکھوں مگر یہ دیکھ کر کہ سلسلہ کے سارے زبر دست اہل قلم کبھی بھی آپ کی سیرت پر کوئی خامہ فرسائی نہیں کرتے ہیں اور میں نے یہ خیال کر لیا کہ غالباً حضر نہ علیا اماں جان کی ناپسندیدگی کے مد نظر کوئی نہیں لکھتا ہو گا اس لئے میں بھی اپنی جگہ دم گھونٹ کر خاموش ہو رہی مگر اب جب کہ ہمارے قابل قدر بھائی مولوی محمود احمد صاحب عرفانی ( اللہ تعالیٰ آپ کی صحت و عمر میں برکت دیوے) نے اس مبارک کام کیلئے اخباری دنیا میں غلغلہ مچادیا تو میں بھی اپنے دیرینہ شوق کے مدنظر چند واقعات سپرد قلم کرتے ہوئے ڈر رہی ہوں کہ کہیں میرے اس مقالہ کو ناظرین و ناظرات حضرت عالیہ کا ایک مکمل خا کہ زندگی ہی تصور نہ فرما لیں اس لئے میں نے ایک فارسی شعر زیب عنوان لکھا ہے۔جس کا مطلب ہی یہ ہے کہ میری ممدوحہ کی سیرت وحسن اخلاق کے تذکرے بہت کثیر ہیں میں ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔مجھے خود اپنی تنگ نظری صاف طور پر محسوس ہوتی ہے البتہ ممدوحہ کے شمائل میں سے کچھ وہ بھی اپنے ذوق و نقطہ نگاہ سے پیش کرنا چاہتی ہوں۔یوں تو عاجزہ کو اب تک قادیان شریف میں ۸۔۱۰ مر تبہ سے زیادہ مرتبہ حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی لیکن غالباً دو مواقع ایسے آئے کہ خاندان سمیت کافی طویل عرصہ تک مجھے قادیان جنت نشان میں رہنے کی سعادت نصیب ہوئی ایک تو ۱۹۲۰ء میں جب کہ حیدر آباد میں میری خوشدامن سردار بیگم صاحبہ مرحومہ کے اصرار پر سید صاحب میرے شوہر نے ( سید بشارت احمد صاحب) ہم تماموں کو لے کر تقریباً ۴ ماہ قادیان شریف میں حضرت اُم المؤمنین سلمها کے قدموں میں گزارے تھے۔پھر دوبارہ ۱۹۳۵ء ۱۹۳۶ء میں تقریباً ایک سال میں نے معہ اپنے جملہ متعلقین کے قادیان شریف میں گزارا ان ہر دو موقعوں پر عاجز ہ کو قریب سے حضرت ام المؤمنین سلمها