سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 321
321 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آپ کے بعد حضرت میرزا بشیر احمد صاحب، حضرت میرزا شریف احمد صاحب ، حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، نواب محمد عبد اللہ خان صاحب، حضرت میر محمد الحق صاحب، جناب میرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے، جناب میرزا رشید احمد صاحب، صاحبزاده میرز اظفر احمد صاحب ان سب کی طرف سے میری ہر رنگ میں حوصلہ افزائی ہوئی۔جزاهم الله احسن الجزاء۔۔ان بزرگوں کے ذکر کے بعد میں سب سے زیادہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے باوجود اپنی علالت طبع کے پوری توجہ سے کتاب کو ملاحظہ فرمایا۔ضروری ضروری غلطیوں کی اصلاح فرمائی۔ہر قسم کے مشورے اور علمی امور میں میری راہنمائی فرمائی۔میں حضرت میر صاحب قبلہ کی اس قیمتی اعانت کے بغیر ہرگز اس کتاب کے شائع کرنے کے قابل نہ تھا۔۴۔حضرت میر صاحب کے بعد حضرت عرفانی کبیر قبلہ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اس کتاب کیلئے ہر قسم کی دوڑ دھوپ اور اس کی طباعت کا سارا با راپنے اوپر لے لیا۔روزانہ ڈاک میں قیمتی مشورے، ان تھک دعائیں اور ہر قسم کی حوصلہ افزائی ان کا معمول رہا۔یہ چیز میرے لئے بڑی با برکت اور مفید ثابت ہوئی۔۵۔ان کے سواء حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کی مجھے ہر قسم کی مدد حاصل رہی۔مہاشہ فضل حسین صاحب نے خاندان کے تاریخی حالات کے متعلق بعض مفید کتابوں کی طرف راہنمائی کی جن کے ذریعے مجھے اچھی مدد ملی۔جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے دعاؤں کے ذریعہ میری بڑی مدد فرمائی۔شیخ محمود احمد صاحب ٹی سنڈیکیٹ حیدر آباد دکن نے روایات کے حصول اور خریداروں کے مہیا کرنے میں بہت سرگرم امداد مجھے بہم پہنچائی۔اس کے علاوہ مولوی ظہور حسین صاحب مولوی فاضل، خواجہ خورشید احمد صاحب مجاہد ، مولوی محمد نذیر صاحب مولوی فاضل وغیرہ دوستوں نے حصہ رسدی میری مدد کی۔اللہ تعالیٰ ان سب کو میری طرف سے خود جزائے خیر دے۔۔اخیر میں میں اسی سلسلہ میں اپنی بیوی کا بھی ذکر کروں گا جس نے میری دیکھ بھال اور غذا اور دوا وغیرہ کا نہایت محنت اور توجہ سے خیال رکھا اور اس کے سوا روزانہ بڑے اہتمام سے دعا ئیں جاری رکھیں۔اس کی اس کوشش سے مجھے آرام ملا جس کی وجہ سے میں کام کرنے کے قابل ہو سکا اور