سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 305
305 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تعالیٰ کی ہدایات کے ماتحت تیری راہ میں وہ شاندار قربانیاں کرے جس سے ان تمام کو تیری رضا حاصل ہو جائے۔تو جماعت کی تمام کمزوریوں ، ہستیوں اور غفلتوں سے درگذر فرما کہ تیرا نام ستار و غفار ہے۔تو اپنے بندے محمود جو تیرے نام اور تیرے اسلام کا جھنڈا ہر ایک ملک ہر ایک جگہ اور ہر مقام پر گاڑنے کے لئے رات دن کوشاں ہے اپنے فضل و رحم سے کامیاب فرما اور اسے وہ صحت کاملہ عطا فرما جس سے رہتی دنیا تک اس کا فیض جاری رہے۔اس کے بعد واضح ہو کہ تمام دنیا کو یہ بات معلوم ہے کہ آج سے نو سال قبل اسلام اور احمدیت کا دشمن اپنے سارے لاؤ لشکر سمیت اسلام اور احمدیت پر حملہ آور ہوا۔احمدیت کے اولوالعزم جرنیل ، پہلوان جلیل نے جو خدا کا ” موعود خلیفہ ہے اس دشمن کو شکست دینے کے لئے میدان عمل میں آیا اور اس نے احمدیت کے ہر ایک سپاہی سے یہ چاہا کہ وہ مقابلہ کے لئے آوے۔چنانچہ آپ نے احمدیت کے ہر ایک سپاہی سے انہیں مطالبات کئے۔ان انہیں مطالبات کا نام ”تحریک جدید “ رکھا گیا۔ان مطالبات میں سے پہلا مطالبہ یہ تھا اور ہے کہ ہر ایک احمدی عورت ہو یا مرد سادہ زندگی بسر کرے۔دین کی خاطر خاص قربانیاں کرنے کیلئے ماحول پیدا کرنے کی ضرورت۔مخلصین جماعت احمدیہ سے جانی اور مالی قربانیوں کے مطالبات میں کہتا ہوں کہ کوئی قربانی کام نہیں دے سکتی جب کہ اس کے لئے مال پیدا نہ کیا جائے۔یہ کہنا آسان ہے کہ ہمارا مال سلسلہ کا ہے۔مگر جب ہر شخص کو کچھ روپیہ کھانے پر اور کچھ لباس پر اور کچھ مکان کی حفاظت یا کرایہ پر کچھ علاج پر خرچ کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے پاس کچھ نہیں بچتا تو اس صورت میں اس کا یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے کہ میرا سب مال حاضر ہے۔اس قسم کی قربانی نہ قربانی کرنے والے کو کچھ نفع دے سکتی ہے اور نہ سلسلہ کو ہی اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔سلسلہ ان کے الفاظ کو کہ میر اسب مال حاضر ہے کیا کرے۔جبکہ سارے مال کے معنے صفر کے ہیں۔جس شخص کی آمد سور و پید اور خرچ بھی سو روپیہ ہے وہ اس قربانی سے سلسلہ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔جب تک کہ پہلے خرچ کو نوے پر نہیں لاتا۔تب بیشک اس کی