سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 299 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 299

299 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ در حقیقت میری خوشدامن نے جب سے حضرت اُم المؤمنین کو دیکھا۔ان کے اخلاص و یکرنگی میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔وہ حضرت اُم المؤمنین کی عاشق و فدائی تھیں۔چنانچہ ایک واقعہ اسی ضمن میں درج کرتی ہوں۔اگر چہ حضرت ممدوحہ کا وہ مکتوب اس وقت دستیاب نہیں ہوا مگر اس کا مفہوم مجھے یاد ہے۔واقعہ یہ ہے کہ: حضرته خوشدامن صاحبہ کی مرض الموت میں جو دس ماہ کی طویل علالت کا زمانہ تھا حیدر آباد کے ایک محترم احمدی نواب اکبر یار جنگ بہادر نے میری نند مسماۃ حاجی بیگم مرحومہ کے لئے اپنا پیغام دیا۔تو حضرت خوشدامن صاحبہ محض اس وجہ سے متامل ہو گئیں کہ نواب صاحب ایک تو پٹھان ہیں دوسرے غیر ملکی ہیں۔ممکن ہے بعد وظیفہ حسن خدمت یہ اپنے وطن فرخ آباد کو میری لڑکی کو نہ لے جائیں۔تب سیّد صاحب نے حضرت اُم المؤمنین کی خدمت میں عریضہ لکھا۔جس پر حضرت ام المؤمنین نے خوشدامن صاحبہ کو خط تحریر فرمایا۔اس کا مفہوم یہی تھا کہ : میں یہ مناسب سمجھتی ہوں کہ آپ اپنی زندگی میں اپنے ہاتھوں یہ کام کر دیں تا کہ آپ کو اطمینان نصیب ہو۔“ پس جو نبی حضرت ام المؤمنین کا یہ مکتوب بستر علالت پر سنایا گیا بلا کسی پس و پیش کے فورا اسی ہفتہ میں رخصتانہ کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے بھی مرحومہ کے اخلاص اور حضرت ام المؤمنین کے اس ارشاد پر عمل کے نتیجہ میں ایک عمدہ پھل یہ عنایت فرمایا کہ میری نند مرحومہ کو ایک اولاد نرینہ پیدا ہوئی جو کہ اس وقت بفضلہ تعالیٰ سردار محمود رشید الدین خان طولعمرہ ایک ۱۹ سالہ نوجوان ہے۔جو علی گڑھ میں ایف۔اے کلاس کا طالب علم ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو صالح مبلغ اسلام و خادم اسلام بنائے۔آمین تحریک جدید فنڈ میں خاندان نبوت کی قربانیاں ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس شادی کے متعلق بتایا گیا تھا کہ یہ شادی اس غرض کے لئے جس غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ہے بہت بابرکت ثابت ہوگی۔چنانچہ اسے نعمت قرار دیا تھا۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اپنے ایک مکتوب گرامی میں تحریر فرماتے ہیں کہ :