سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 298
298 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت میرے شوہر مولوی سید بشارت احمد صاحب و میرے دیور مولوی حکیم میر سعادت علی صاحب مرحوم کو تحریر فرماتی ہیں کہ : بسم الله الرحمن الرحيم از قادیان دارالامان ۱۵ دسمبر ۱۹۲۳ء عزیزانِ من سلامت رہیں ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ۔آپ کے عزیز نامہ سے یہ سن کر از حد رنج و تاسف ہوا کہ آپ کی والدہ صاحبہ اور ہماری مخلص اخلاص مند خاتون نے داغ جدائی دیا۔اَللَّهُمَّ اغْفِرُ - مرحومہ بہت اخلاص مهند احمدی خاتون تھیں۔ان کی علالت کی حالت میں بھی دعائیں کیں۔مگر اللہ تعالیٰ کو اپنے پیارے ہر طرح آرام و راحت میں رکھنے پسندیدہ ہیں۔گو ہمارے لئے وہ جدا اور نظروں سے پوشیدہ ہیں مگر بیٹوں کے ہاتھوں سپردخاک ہو کر مقام اعلیٰ کو پہنچ گئیں۔خدائے ذوالجلال نیکوں کو ضائع نہیں کرتا اور آخر جو ملا ہے وہ بچھڑے گا۔چند روز بعد ہم بھی ان سے ملاقاتی ہونے والے ہیں۔مرحومه مغفورہ اپنے اخلاق حسنہ اور نیکی و تقوی کے باعث ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہیں گی اور اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کے باعث اجر عظیم عنایت کرے گا اور اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے گا۔باقی رہا اولاد کے لئے جدائی کا صدمہ سو جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیارا رکھتے ہیں وہ کبھی غمزدہ نہ ہونے چاہئیں۔اس پیارے پر سب پیارے قربان ہیں۔اب دعا ہے کہ خداوند کریم مغفورہ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دیوے۔اور جنت کے اعلیٰ مقامات کا وارث کرے۔ہم کو جملہ متعلقین سے دلی ہمدردی ہے۔والسلام آپ کی ہمشیرہ اور بہوؤں سے خاص اظہار ہمدردی ہے۔سب کو مرحومہ کی نیکیوں کا وارث بنا دے۔اور صبر جمیل کی توفیق عطا فرما دئے۔والدہ میرزا محمود احمد خلیفه امسیح علیہ السلام از قادیان