سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 283
283 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ چنانچہ آپ کی دعاؤں کے طفیل چھ ماہ کے بعد ہی میرے گھر میں لڑکا پیدا ہوا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس کا نام منور احمد تجویز فرمایا: یہ تھی حضرت اُم المؤمنین کی شفقت اور یہ تھا حضرت ائم المؤمنین کی دعا کا اثر۔جس نے میرے دل کو روشن اور منور کر دیا۔“ (۲) ۱۹۴۲ء میں میری بڑی لڑکی امتہ الرشید بعارضہ ٹائیفائڈ سخت بیمار ہوگئی۔حالت خطر ناک تھی۔یہ بیماری مسلسل چارہ ماہ تک رہی۔حضرت اُم المؤمنین کی اپنی طبیعت بھی ان دنوں نا ساز رہتی تھی۔لیکن باوجود اپنی ناسازی طبیعت کے آپ ہفتہ دو ہفتہ بعد برابر میری لڑکی کی عیادت کو تشریف لایا کرتی تھیں۔بچی کے نزدیک بیٹھ کر بہت تسلی دیتیں۔تیمار داری کی ہدایات فرماتیں۔ہر آنے والی بہن سے دعا کی تحریک کرتے ہوئے فرماتیں: اللہ تعالیٰ پر دیسی جوان لڑکی کو صحت و عمر عطا فرمائے۔محض دوبارہ جلسہ سالانہ اور نماز عید کی خاطر دس ماہ ماں باپ سے جدا رہی۔اللہ نے اُم المؤمنین کی دعاؤں کو سنا اور میری لڑکی کو دوبارہ زندگی عطا فرما دی۔اس واقعہ سے نہ صرف آپ کی عیادت اور تیمارداری کی صفت کا پتہ چلتا ہے بلکہ ہر احمدی کے ساتھ جو قادیان میں آتا ہے۔آپ کو جو لگاؤ، جو محبت ، جو انس اور جو شفقت ہے۔اس کا بھی پتہ چلتا ہے۔" میں ایک دفعہ حضرت اماں جان کے ہاں گئی ہوئی تھی۔آپ بیماری کی وجہ سے پلنگ پر لیٹی ہوئی تھیں۔اُس وقت ایک دوسری خاتون بھی موجود تھیں۔اماں جان نے بیماری کی وجہ سے مجھ خادمہ کو پان بنانے کیلئے کہا۔اس پر اُس خاتون نے کہا۔کہ اماں جان! میں تو آپ کے ہاتھ کا پان کھانے آئی تھی۔آپ اسی تکلیف کی حالت میں اُٹھ کر بیٹھ گئیں اور اپنے ہاتھ سے اُس خاتون کو پان بنا کر دے دیا اور خود میرے ہاتھ کا لگا ہوا پان لے لیا۔یہ واقعہ اماں جان کی اس اندرونی کیفیت کا پتہ دیتا ہے کہ با وجو د شدید سے شدید تکلیف کے دوسروں کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہتی ہیں“۔(۱۰) متر مدسید ہ فضیلت بیگم صاحبہ سیالکوٹ سےلکھتی ہیں کہ : ۱۹۴۰ ء یا ۱۹۳۱ء کا واقعہ ہے کہ حضرت اُم المؤمنین مدظلہ العالی کی طبیعت بہت علیل تھی اس