سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 275
275 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت ألم المؤمنین کی شفقت اپنے خدام سے یہاں میں چند روایات بطور نمونہ درج کرتا ہوں۔یہ روایات میری درخواست پر سلسلہ کے مردوں، عورتوں کی طرف سے موصول ہوئی ہیں۔ان روایات کو میں نمبر دے کر درج کرتا ہوں تا کہ ان بہت سی روایات کا اندازہ لگایا جا سکے۔جو میرے پاس درج کرنے کیلئے موصول ہو چکی ہیں۔(1) بیگم صاحبہ حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب نے حضرت اُم المؤمنین کی شفقت کے متعلق لکھا۔۔۔۔۔۔۱۹۱۷ء کے جلسہ میں میں سیٹھ صاحب کے ہمراہ قادیان گئی۔اُس وقت میری پیاری بچی زینب گود میں تھی۔ہم کو وہاں اماں جان کی زیارت نصیب ہوئی۔حضرت اماں جان نے ہمارے ساتھ نہایت شفقت کا سلوک فرمایا جسے میں کبھی بھول نہیں سکتی۔آپ نے ہمارے لئے حضرت مریم صدیقہ صاحبہ کے کمرے کے ساتھ جنوبی جانب کا کمرہ خالی کرا دیا۔میری بچی کی آیا بیمار ہو گئی تھی۔اماں جان کو جب یہ معلوم ہوا تو فوراً دولڑ کیوں کو میرے پاس کام کیلئے بھیج دیا۔اماں جان ہمارا، ہمارے زمانہ قیام میں ہر طرح خیال رکھتی رہیں اور ہماری ہر طرح دلداری فرماتی رہیں۔ہم اپنی مخدومہ کے ان اخلاق پر بڑے حیران ہورہے تھے۔(۲) محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ بنت سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب لکھتی ہیں: ۱۹۴۲ء کے سالانہ جلسہ پر میں بھی اپنے والدین کے ساتھ قادیان گئی۔ہم اماں جان کے مہمان ہوئے۔آپ ان ایام میں بہت مصروف الوقت ہوتی ہیں۔ہزار ہا عورتیں آپ کی زیارت کے لئے آتی ہیں۔اس مصروفیت کے علاوہ اماں جان کی اپنی طبیعت بھی نا سا تھی مگران دونوں باتوں کے باوجود اماں جان ہمارا پورا پورا خیال رکھتی تھیں۔