سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 269
269 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ یہ تھا اس زمانے کا راستباز نبئی ، جو بیٹے کے مرنے پر اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بڑا خوش ہوں کہ خدا کی بات پوری ہوئی۔حضرت ام المؤمنین اس امتحان میں پوری اُتریں مبارک احمد کی بیماری میں ماں کا دل تھا کہ گھبرا اٹھا کرتا تھا۔تو حضرت اقدس فرمایا کرتے تھے کہ آخر نتیجہ موت ہی ہونا ہے یا کچھ اور ، اور فرماتے کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وَلَنَبْلُوَنَّكُمُ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ امتحان بھی آیا کرتے ہیں۔جب مبارک احمد کی وفات ہوئی تو حضرت اُم المؤمنین کی زبان سے پہلا کلمہ یہ نکلا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔کوئی نعرہ نہیں مارا ، کوئی چھینیں نہیں ماریں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اس بات کی مجھے بڑی خوشی ہوئی“۔یہ رضاء بالقضاء کا مقام تھا۔جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی خدیجہ فائز تھے۔حضرت اُم المؤمنین نے اس وقت فرمایا : میں خدا کی تقدیر پر راضی ہوں“۔جب اس طرح آپ نے اس امتحان کو قبول کر لیا تو آسمان پر حضرت ام المؤمنین کے اس امتحان کا ریزلٹ بذریعہ وحی الہی نازل ہوا۔”خدا خوش ہو گیا !“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ الہام جب حضرت اُم المؤمنین کو سنایا تو آپ نے فرمایا : د مجھے اس الہام سے اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ دو ہزار مبارک احمد بھی مر جاتا تو میں پرواہ نہ کرتی “۔لوگو! اٹھو اپنے ہاتھ میں چراغ لے لو۔بجلی کی بیٹریاں پکڑ لو اور اگر ممکن ہو تو بجلی کا کوئی سورج چڑھا لو اور دنیا کا کونہ کو نہ چھان مارو اور ڈھونڈو، اس ماں کو جو اپنے دو ہزار فرزند کی موت کو خدا کی رضاء کے مقابل بالکل بیچ جاننے والی ہو کیا ہر گھر میں عورتیں نہیں ؟ اور کیا ہر گھر میں مائیں نہیں ؟ کیا ہم میں سے ہر