سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 268 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 268

268 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پھر اہل بیت کو مخاطب کر کے الہام ہوا : يأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمُ۔یہ الہامات جو صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات سے قبل ہو رہے تھے ان کی دو غرضیں تھیں : اوّل: اہلِ بیت کو اس حادثہ فاجعہ کیلئے تیار کرنا تھا۔اور ان سے ایک قسم کی ہمدردی اور تعزیت کرنا مقصود تھا۔دوسرے : اس واقعہ سے اہل بیت کے مدارج بلند کرنا مقصود تھا۔یہ ایسی بات تھی کہ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد ماجد کی وفات سے قبل الطارق و ما الطارق کا الہام نازل ہوا اور اس میں اس حادثہ کی طرف اشارہ کر کے آپ سے تعزیت کی گئی تھی۔انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهر كم تطهيرا کا الہام چار مرتبہ ہوا۔حضرت اقدس نے جو اس وقت تقریر فرمائی اس میں اس الہام کا ذکرفرمایا اور فرمایا : کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے لئے یہ بڑا تطہیر کا موقعہ ہے۔انکو بڑے بڑے تعلقات ہوتے ہیں اور ان کے ٹوٹنے سے رنج بہت ہوتا ہے“۔بعض ایسے لوگوں نے جن کی طبائع میں میل اور کھی تھی ، انہوں نے اس الہام کے یہ معنی کئے کہ خدا تعالیٰ تو تم کو رجس سے پاک کرنا چاہتا ہے مگر تم نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ تم اس کے اہل نہیں۔کس قدر ظلم ہے کس قدر بد دیانتی ہے۔کس قدر بے حیائی ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کے وہ معنی کئے جائیں جو محض خدا کی مخلوق کو دھوکہ دینے کا باعث ہوں اور دین الہی سے دور لے جانے کا باعث ہوں۔خدا کا رسول تو یہ معنی کرے کہ ماں کے قلب میں جو بچوں کی محبت ہوتی ہے وہ اس مقام کے لحاظ سے جو خدا تعالیٰ سے صفائی ، عشق، طہارت، پاکیزگی کی وجہ سے انبیاء اور ان کے اہلبیت کو حاصل ہوتا ہے کہ اس میں اولاد کی محبت کا غلبہ بھی رجس ٹھہر جاتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ حضرت اُم المؤمنین کو اپنے اس مقامِ رضاء پر دیکھے جس مقام پر حضرت مسیح موعود خود کھڑے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام تو یہ تھا کہ مبارک احمد فوت ہوتا ہے ، لوگ روتے ہیں غمگین ہوتے ہیں ، آپ ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہیں اور فرماتے ہیں: میں اس سے بڑا خوش ہوں کہ خدا کی بات پوری ہوئی“