سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 262 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 262

262 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اس پیشگوئی کے ماتحت ہوئی کہ : اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو ان نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخمریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلائے“۔۵۴ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی پیدائش سے قبل آپ نے کتاب آئینہ کمالات اسلام میں ایک پیشگوئی شائع کی تھی جو یوں ہے۔يَوْمَ يَجِيءُ الْحَقُّ وَيُكْشَفُ الصّدْقُ وَيَخْسَرُ الْخَاسِرُونَ - أَنْتَ مَعِيٌّ وَأَنَا مَعَكَ وَلَا يَعْلَمُهَا إِلَّا الْمُسْتَرْشِدُونَ نَرُدُّ إِلَيْكَ الْكَرَّةَ الثَّانِيَةَ وَنُبَدِّلَنَّكَ مِنْ بَعْدِ خَوْفِكَ أَمْنًا - يَأْتِي قَمَرُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَمُرُكَ يَتَاتَّى - يَسُرُّ اللَّهُ وَجْهَكَ وَيُنِيرُ بُرْهَانَكَ سَيُولَدُ لَكَ الْوَلَدُ وَيُدْنى مِنْكَ الْفَضْلُ - إِنَّ نُورِى قَرِيبٌ وَقَالُوا أَنَّى لَكَ هَذَا قُلْ هُوَ اللَّهُ عَجِيْبٌ وَلَا تَيْتَسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ - أَنْظُرُ إِلَى يُوسُفَ وَإِقْبَالِهِ - قَدْ جَاءَ وَقْتُ الْفَتْحِ وَالْفَتْحُ أَقْرَبُ يَخِرُّونَ عَلَى الْمَسَاجِدِ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ - لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ - أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ ادَمَ - نَحِيُّ الْاِسْرَارِ إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي يَوْمٍ مَوْعُودٍ - د یعنی اس دن حق آئے گا اور صدق کھل جائے گا اور جو لوگ خسارہ میں ہیں وہ خسارہ میں پڑیں گے تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا مگر وہی جور شد رکھتے ہیں۔ہم پھر تجھ کو غالب کریں گے اور خوف کے بعد امن کی حالت عطا کر دیں گے نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام تجھے حاصل ہو جائے گا خدا تیرے منہ کو بشاش کرے گا اور تیرے بُرہان کو روشن کر دے گا۔اور تجھے ایک بیٹا عطا ہوگا۔اور فضل تجھ سے قریب کیا جائے گا۔اور میرا نور نزدیک ہے۔اور کہتے ہیں کہ یہ مراتب تجھ کو کہاں ؟ ان کو کہہ کہ وہ خدا عجیب خدا ہے۔اس کے ایسے ہی کام ہیں۔جس کو چاہتا ہے اپنے مقربوں میں جگہ دیتا ہے اور میرے فضل سے نا اُمید مت ہو۔یوسف کو دیکھ اور اس کے اقبال کو۔فتح کا وقت آ رہا ہے اور فتح قریب ہے۔مخالف یعنی جن کے لئے تو بہ مقدر ہے اپنی سجدہ گاہوں