سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 261 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 261

261 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جس قدر تاویلیں کی جارہی ہیں سب غلط ، جھوٹی اور بودی ہیں۔اب دنیا میں کوئی محمدی بیگم نہیں مگر نصرت جہاں بیگم۔اب دنیا میں کوئی ایسی عورت نہیں جو مصلح موعود کی ماں کہلائے مگر اُم المؤمنین۔اب کسی عورت کو یہ فخر حاصل نہ ہوگا کہ وہ مسیح موعود کے لئے نوروں کی تخمریزی کرنے والی اولاد پیدا کرے سوائے حضرت اُم المؤمنین کے۔اب کوئی عورت خدیجہ ثانیہ نہیں کہلائے گی۔مگر یہی مومنوں کی ماں۔پس کون ہے، اس کی شان کی مزاحمت کرنے والا ! یہی وہ خاتون تھی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے بطور ایک نعمت کے بھیجی تھی اور اس نعمت کا شکر کرنے کا حکم دیا تھا۔اس طرح میرے نزدیک مصلح موعود کا مسئلہ بالکل صاف ہو جاتا ہے۔الغرض آپ ان تمام صفات کے ساتھ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو پیدا ہوئے۔آپ کی ولادت ہفتہ سے پہلی رات کو دس بارہ بجے ہوئی ۵۲۔اور ماں اور باپ کی آنکھوں کا نور بن کر پروان چڑھتے رہے اور بالآخر اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو جماعت احمدیہ کے امام منتخب ہوئے اور خلیفتہ المسیح الثانی مقرر ہوئے۔اللہ تعالیٰ حضور کی زندگی میں بڑی برکت عطا فرمائے اور سلسلہ کو آپ کے ہاتھ پر تمام برکتوں کا وارث بنائے۔آمین صاحبزادی شوکت (۴) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ السیح الثانی کی پیدائش کے بعد ۱۸۹۱ء میں صاحبزادی شوکت پیدا ہوئی۔اس صاحبزادی کی پیدائش بروز پیر ۴ بجے شام کے وقت ہوئی اور ۱۸۹۲ء میں فوت ہو گئی۔یہ معصوم صاحبزادی اس پیشگوئی کے موافق کہ بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گئے۔۵۳ کم عمری میں فوت ہو گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے (۵) حضرت اُم المؤمنین کی پانچویں اولاد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ہیں آپ کی ولادت باسعادت ۱/۱۲اپریل ۱۸۹۳ء جمعرات کی صبح کو بعد طلوع آفتاب ہوئی۔آپ کی پیدائش