سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 252
252 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیرا ابتلاء نازل ہوا۔غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت وسختی سے نازل ہوتی ہے۔ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں ان پر ہوئیں۔پر وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سُست اور شکستہ دل نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب و شدائد کا باران پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور جس قدر وہ توڑے گئے اسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر انہیں مشکلات راہ کا خوف دلایا گیا ان کی ہمت بلند اور شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی۔بالآخر وہ ان تمام امتحانات سے اول درجہ کے پاس یافتہ ہو کر نکلے اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو گئے اور عزت و حرمت کا تاج ان کے سر پر رکھا گیا۔۳۸ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جو کچھ حکایت دیگراں کی صورت میں تحریر فرمایا ہے وہ دراصل ان کی اپنی سیرت، ان کی اپنی وفا شعاری ، ان کے اپنے عشق و محبت، ان کی اپنی مشکلات اور مصائب کی داستان ہے۔میری اس کتاب کو پڑھنے والے ان الفاظ کو پڑھیں اور پھر پڑھیں اور وہاں وہ غائب کی ضمیروں کو حاضر کی ضمیروں میں تبدیل کریں اور اپنی آنکھوں کے سامنے حضرت مسیح موعود کو دیکھیں کہ وہ خدا کا فرستادہ اپنی اس حالت کو کن الفاظ میں بیان فرما رہا ہے۔آپ فرماتے ہیں : ا۔یہ ابتلا شیرئیر کی طرح تھا۔۲۔2 یہ ابتلاء سخت تاریکی کی مانند تھا۔۔ان ابتلا ؤں نے طول کھینچ لیا تھا۔اس کی مثال ایسی تھی جیسے سخت تاریک رات میں شدت کی بارش ہوتی ہے۔یہ ابتلاء آندھی کی طرح تھا۔سخت تاریکی کے مانند تھا۔بڑے بڑے زلزلوں کی مانند تھا۔۔اس چیز نے ان کو بظاہر ذلیل کیا اور دشمنوں نے ان کو جھوٹوں ، مکاروں، بے عزتوں میں شمار کر لیا۔بظاہر ایسا معلوم ہونے لگا کہ وہ تنہا چھوڑ دیئے گئے ہیں اور خدا تعالیٰ کی نصرت ان سے جاتی رہی۔تصور کرو! ہاں ! اچھی طرح تصور کرو!! کہ اس نبی یا مامور ومرسل کے قلب کی کیا حالت ہو سکتی ہے۔