سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 247 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 247

247 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اس سے اس توجہ اور شفقت اور محبت کا پتہ چل سکتا ہے کہ جو حضرت اقدس کو بشیر کی بیماری کے متعلق تھی۔نیز اس حالت میں آپ کس قدر دعا ئیں فرما رہے تھے۔حضرت اماں جان کی جو حالت ہوگی وہ خود بخودہی واضح ہو جاتی ہے وہ ماں جس کا پہلا بچہ ہوا اور جو خوبصورت بھی ہو اس کی ذات کے متعلق بڑی بڑی امیدیں وابستہ ہوں۔وہ ایسا سخت بیمار ہو تو اس ماں کے قلب کی کیا کیفیت ہوگی۔یہ کسی تشریح کی محتاج نہیں۔صاحبزادہ بشیر احمد اوّل اس شدید بیماری سے بالکل اچھا ہو گیا۔چنانچہ ۱۸/ اگست ۱۸۸۸ء کو ایک خط میں حضرت مولوی صاحب کو لکھا کہ آپ کے آنے کی اب ضرورت نہیں۔اب بشیر احمد خدا کے فضل سے اچھا ہے۔اس طرح خدا تعالیٰ نے ان دعاؤں کو جو کی گئیں۔شرف قبولیت بخشا اور صاحبزادہ بشیر اول اچھا ہو گیا۔مگر اصل تقدیر جو مہمان کے الہام میں پوشیدہ تھی ، ابھی پوری ہونے والی تھی۔چنانچہ بشیر اؤل پھر بیمار ہوا اور ۴/ نومبر ۱۸۸۸ء کو تئیس دن بیمار رہ کر فوت ہو گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ نے حضرت مولوی صاحب کو جموں خط لکھا اور اس میں بشیر اول کی وفات کی اطلاع دی۔چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا: میرا لڑکا بشیر احمد تئیس روز بیمار رہ کر آج بقضائے رب عز وجل انتقال کر گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اِس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہونگی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔وانــــا راضـــون برضائه وصابرون على بلائه يرضى عنا مولينا في الدنيا والأخرة وهو ارحم الراحمین۔والسلام ۴۔نومبر ۱۸۸۸ء حضرت حکیم الامت کو آپ نے جو مختصر خط لکھا۔اس میں دو امور کی طرف اشارہ فرمایا: ا۔اب مخالفوں کی زبانیں دراز ہونگی۔-۲ موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے۔سوالیسا ہی ہوا۔ایک بڑا زلزلہ آیا۔مخالفت کا طوفان بے تمیزی اُٹھا سیرۃ المہدی حصہ اوّل مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے صفحہ ۸۸ پر لکھا ہے :