سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 13 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 13

13 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت اُم المؤمنین کی سیرت و سوانح لکھنے سے قبل کچھ (1) اللہ تعالیٰ کی قدرتیں ایسی عجیب ہوتی ہیں کہ انسان ان کو دیکھ کرمحو حیرت ہو جاتا ہے۔بنی اسرائیل کے گھرانے کا نجات دہندہ خدا کا پیارا نبی موسے فرعون کے گھر میں پرورش پاتا ہے اور جب اُس کی ماں بنی اسرائیل کے دیگر بچوں کے انجام کو دیکھتی ہوئی گھبرائی تو الہی دستگیری سے اُسے دریائے نیل میں بہا دیتی ہے۔جسے فرعونی خاندان کی ایک عورت بچالیتی ہے اور باوجود فرعون کے فرمان کی موجودگی کے وہ اسرائیل جس کے لئے مقدر تھا کہ وہ اس فرعونی سلطنت کا خاتمہ کر دے گا، قصر فرعونی میں پرورش پاتا ہے۔پھر دوسرے دور میں وہ ایک کسمپرس انسان کی طرح مصر سے بھاگتا ہے۔حضرت شعیب کی بکریاں چراتا ہے کون جانتا تھا کہ یہ شخص جو آج سر چھپانے کے لئے جگہ نہیں پاتا وہ کل سارے بنی اسرائیل کا بادشاہ قرار دیا جائے گا اور اس کا وجود اسرائیل کے لئے ایک نئی سلطنت کی بنیا درکھنے کا باعث قرار پایا جائے گا۔(۲) وادی فلسطین میں زیتون کی جھاڑیوں کے پاس بیت المقدس کی پہاڑی پر ایک عورت کا بیٹا جو منشاء الہی سے پیدا ہوا تا کہ دنیا پر خدا تعالیٰ کی ایک خاص قدرت نمائی کا اظہار کرے۔جب چلتا پھرتا نظر آتا تھا تو لوگ اس پر طعنہ زن ہوتے تھے۔اس کی ہنسی اڑائی جاتی تھی۔اس پر مذاق کیا جاتا تھا۔بالآخر اس پر مقدمات بنائے گئے۔عدالتوں میں کھینچا گیا۔خدا کی وسیع زمین با وجود بڑی وسعت کے اس پر اس حد تک تنگ ہوئی کہ اس نے کہا: پرندوں کیلئے بیرے اور لومڑیوں کیلئے بھٹ ہیں۔مگر ابن آدم کے لئے سر چھپانے کی جگہ نہیں“۔اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا گیا۔اسکے منہ پر طمانچے مارے گئے۔اس کی پیٹھ پر لکڑی کی بھاری صلیب لادی گئی۔اور بالآ خر صلیب پر لٹکا دیا گیا۔گو خدا کے ہاتھ نے اسے موت سے بچالیا مگر