سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 246
246 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بشیر احمد کی علالت جب بشیر احمد کی عمر ایک سال کے قریب ہوئی تو وہ سخت بیمار ہو گیا۔حضرت حکیم الامت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بعد میں خلیفتہ المسیح الاوّل ہوئے کو جموں میں مکتوب گرامی تحریر فرمایا: بشیر احمد عرصہ تین ماہ تک برابر بیمار رہا۔تین چار دفعہ ایسی نازک حالت تک پہنچ گیا ہے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ شاید دو چار دم باقی ہیں۔مگر عجیب قدرت قادر ہے کہ ان سخت خطرناک حالتوں تک پہنچا کر پھر ان سے رہائی بخشتا رہا ہے۔اب بھی کسی قدر علالت باقی ہے۔مگر بفضلہ تعالیٰ آثار خطر ناک نہیں ہیں۔اور ایسے وقتوں کی دعا بھی عجیب قسم کی دعا ہوتی ہے۔سو الحمد للہ والمنتہ کہ آپ ایسے وقتوں میں یاد آ جاتے ہیں۔۔اس کے بعد پھر ایک خط تحریر فرمایا جس میں تحریر فرمایا: ایک خط روانہ خدمت کر چکا ہوں۔اب باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ بشیر احمد میرا لڑکا جس کی عمر قریب برس کے ہو چلی ہے۔نہایت ہی لاغر اندام ہو رہا ہے۔پہلے سخت پ محرقہ کی قسم بخار چڑھا تھا۔اس سے خدا تعالیٰ نے شفا بخشی۔پھر بعد کسی قد رخت تپ کے یہ حالت ہوگئی کہ لڑکا اس قدر لاغر ہو گیا ہے کہ استخواں ہی استخواں رہ گیا۔سقوط قوت اس قدر ہے کہ ہاتھ پیر بیکار کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔یا تو وہ جسم قوی ہیکل معلوم ہوتا تھا اور یا اب ایک تنکے کی طرح ہے۔پیاس بشدت ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بقیہ حرارت کا اندر موجود ہے۔آپ براہ مہربانی غور کر کے کوئی ایسی تجویز لکھ بھیجیں جس سے اگر خدا چاہے بدن میں قوت ہو اور بدن تازہ ہو۔اس قدر لاغری اور سقوط قوت ہو گیا ہے کہ وجود میں کچھ باقی نہیں رہا۔آواز بھی نہایت ضعیف ہو گئی ہے۔یہ بھی واضح کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ دانت بھی اس کے نکل رہے ہیں۔چار دانت نکل چکے تھے کہ یہ بیماری شیر کی طرح حملہ آور ہوئی۔اب باعث غایت درجہ ضعف قوت اور لاغری اور خشکی بدن کے دانت نکلنے موقوف ہو گئے ہیں اور یہ حالت ہے ، جو میں نے بیان کی ہے۔براہ مہربانی بہت جلد جواب سے مسرور فرماویں۔والسلام