سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 245
245 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بچی کی یہ شان تھی کہ خدا نے اسے كَرَمُ الجنَّةِ دوحة الجنَّةِ کہا اور جس کے بیٹے کی یہ شان کہ خدا تعالیٰ اسے اپنے عرش سے مبشر، بشیر ، نور اللہ، چراغ دین وغیر ہ اسماء سے یاد فرمارہا تھا۔یہ کھلی کھلی دلیل تھی کہ یہی وہ خاتون تھی کہ جس میں اس قدر پاکیزہ استعداد تھی کہ وہ مسیحی صفت بچے پیدا کر سکے۔ایسی ماں کی عظمت میں کیا شک ہو سکتا ہے۔الغرض بشیر احمد اول اپنے مقدس اور بزرگ باپ اور عظیم الشان ماں کی آغوش میں شفقت کے ساتھ بڑھنے لگا۔حضرت اقدس اور حضرت اُم المؤمنین کو اس کے آرام کا بہت بڑا خیال تھا۔چنانچہ خاص اس بچہ کی خدمت کے لئے ایک نوکر کی تلاش ہوئی۔حضرت اقدس نے ۱۲۱ اگست ۱۷ء کو چوہدری رستم علی صاحب کی خدمت میں لکھا کہ : ”ہمارا یہ منشاء ہے کہ کوئی باہر سے خادم آوے جوطفل نوزاد کی خدمت میں مشغول رہے۔آپ اس میں نہایت درجہ سعی فرما دیں کہ کوئی نیک طبیعت اور دیندار خادم کہ جو کسی قدرجوان ہوٹل جائے“۔پھر ایک پوسٹ کارڈ 14 ستمبر کو تحریر فرمایا جس میں خادمہ کی ضرورت کے متعلق لکھا: ”صرف نیک بخت اور ہوشیار اور بچہ رکھنے کے لائق ہو۔۔۔۔گھر میں تین عورتیں خدمت کرنے والی تو اس جگہ موجود ہیں۔پھر ۲۱ ستمبر کو تحریر فرمایا : اب ایک خادمہ ، محنت کش ، ہوشیار، دانا، دیانتدار کی اشد ضرورت ہے اور اس کا کام یہی ہوگا کہ لڑکا اور لڑکی دونوں کی خدمت میں مشغول رہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ گھر میں تین خادمائیں موجود تھیں۔مگر اس بچے اور پہلی بچی کی خدمت کے لئے ایک الگ خادمہ کی تلاش کی جارہی تھی تا کہ ان بچوں کو زیادہ سے زیادہ آرام مل سکے اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ آپ نوکرانی بھی ایسی چاہتے تھے جو نیک اور دیانتدار اور تمام اچھی صفات سے متصف ہو۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ان بچوں کے متعلق کس قدرا ہتمام تھا اور یہ بچے کیسے بابرکت تھے ، جو ایسے والدین کے زیرسایہ پرورش پارہے تھے۔