سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 230
230 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سے بولنا شروع کیا کہ یہ سیڑھی یہاں ہی رہے گی۔مولوی محمد احسن صاحب بھی اونچی آواز سے انکار اور تکرار کرتے رہے۔اتنے میں حضرت صاحب باہر سے تشریف لے آئے۔اور پوچھا کیا ہے؟ میر صاحب نے کہا کہ مجھ کو اندر سیدانی ( مرادائم المؤمنین ) آرام نہیں لینے دیتی اور باہر سید سے پالا پڑ گیا ہے۔نہ یہ مانتے ہیں نہ وہ مانتی ہیں میں کیا کروں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسکرا کر فرمایا: ”مولوی صاحب ! آپ کیوں جھگڑتے ہیں۔میر صاحب کو جو حکم دیا گیا ہے ان کو کرنے دیجئے۔روشنی کا انتظام کر دیا جائے گا۔آپ کو تکلیف نہیں ہوگی۔اس طرح پر حضرت اُم المؤمنین کے ارشاد کی تعمیل ہوگئی۔الغرض کبھی بھی کوئی ایسا موقع نہیں آیا جس میں حضرت اقدس کی طرف سے حضرت ام المؤمنین کی دل شکنی ہوئی ہو۔۲۴ حضرت ام المؤمنین کے احترام کے متعلق ایک اور روایت حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے میری اس کتاب کیلئے ایک اور روایت تحریر فرمائی ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت اُم المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کا اس قدر اکرام و اعزاز کرتے تھے آپ کی خاطر داری اس قدر ملحوظ رکھتے تھے کہ عورتوں میں اس بات کا چرچا رہتا تھا۔جب میں لاہور میں ملازم تھا۔۱۸۹۷ ء یا اس کے قریب کا واقعہ ہے۔لاہور کا ایک معزز خاندان قادیان آیا۔ان میں سے بعض نے بیعت کی اور سب حسن عقیدت کے ساتھ واپس گئے۔واپسی پر اس خاندان کی ایک بوڑھیا نے ایک مجلس میں یہ ذکر کیا کہ میرزا صاحب اپنی بیوی کی کس قدر خاطر اور خدمت کرتے ہیں۔اتفاقاً اس مجلس میں ایک پرانے طرز کے صوفی بزرگ بھی بیٹھے تھے۔وہ فرمانے لگے ہر سالک کا ایک معشوق مجازی بھی ہوتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میرزا صاحب کا معشوق ان کی بیوی ہے۔یہ خیال تو ان صوفی بزرگ کا تھا مگر اصل بات یہ ہے کہ حضرت اُم المؤمنین کا