سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 220 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 220

220 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پوری ہو جائیں۔خواہ میں ہلاک کیوں نہ ہو جاؤں۔“ اس واقعہ کی تہہ میں بہت سی باتیں پوشیدہ ہیں : ا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پر اور آپ کے دعوی پر آپ کا ایمان ۲۔شوہر کی سچی محبت ۳۔اسلام سے سچا پیار ۴۔دعاؤں پر ایمان ۵۔اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت وسچائی کیلئے ہر تکلیف کو برداشت کرنے کی قوت کا اپنے اندر پانا۔پہلا اور پھر یہ دوسرا واقعہ اس کچی محبت اور اس کچی وفاداری کا ببانگ دہل اعلان کر رہا ہے جو آپ کو اپنے مقدس شوہر سے تھی۔آپ ان کی اطاعت میں اس قدر مخلص اور وفا شعار تھیں کہ ایک سوت کو قبول کرنے اور ایک سوت سے حسن سلوک کرنے میں دریغ نہ کرتی تھیں۔اس کی مثال ذرا ڈھونڈ و کہیں نظر آتی ہے؟ کیا حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ کا واقعہ ہزار ہا سال سے بندگانِ خدا کے سامنے نہیں آ رہا؟ ہاجرہ کی ہجرت میں الہی قدرت کے کیا کیا راز تھے مگر بادی النظر میں تو یہی نظر آ رہا ہے کہ وہ دوسوتوں کا جھگڑا تھا۔رام چندر جی ہندو مذہب کے مقدس ہادیوں میں سے تھے۔ان کے بن باس کا واقعہ کیا ہے؟ وہ دوسوتوں کا جھگڑا تھا جس نے اس قدر بھیانک صورت اختیار کر لی کہ رام چندر جی مہاراج کو تو بارہ برس کے لئے بن باس جانا پڑا۔ان کے باپ راجہ دسرتھ کی موت واقعہ ہوگئی اور حالات کچھ کے کچھ ہو گئے۔رانی کیکئی جو بھرت کی ماں تھی اس نے خاوند کی موت ،سلطنت کی تباہی ، ان سب امور کو قبول کر لیا مگر اس امر کو پسند نہ کیا کہ سوت کا لڑ کا تخت نشین ہو۔مگر حضرت اُم المؤمنین کی سیرت کا یہ سنہری اور زریں واقعہ ایسا ہے کہ جس نے مسلمان عورتوں کی شوہر پرستی کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔گویا کہ اس دل کو پہلو سے نکال کر پھینک دیا۔جس دل میں سوت کیلئے نفرت کے جذبات موجزن ہوتے ہیں۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے اس واقعہ پر