سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 212
212 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کا تعلق مسجد خواجہ میر درد میں بین العصر والمغرب باندھا گیا۔حضرت میر صاحب کے رشتہ دار برا بھلا کہہ رہے تھے۔مگر آسمان پر اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ برکات نازل فرما رہے تھے۔کیونکہ اس وقت عالم روحانیت میں ایک تعمیر نو کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔اس زمانے میں بٹالے تک ریل بن چکی تھی۔حضرت صاحب رخصتا نہ کرا کے حضرت اُم المؤمنین کو لیکر قادیان آگئے۔ایک اور روایت سید غلام حسین صاحب انیمل ہر بنیڈ ری وٹرنری آفیسر بھوپال برا در حضرت قاضی سید امیرحسین صاحب نے مجھے بھوپال سے ایک روایت لکھی ہے : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح اول نے مجھ سے فرمایا کہ ہم نے میر ناصر نواب صاحب سے ایک دن یہ دریافت کیا کہ کیا آپ کوئی ایسی نیکی بتا سکتے ہیں۔جس کے باعث آپ کی صاحبزادی حضرت مسیح موعود کے نکاح میں آئی۔اس پر میر صاحب نے فرمایا کہ اور تو مجھے کچھ یاد نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ جب سے یہ پیدا ہوئی اس دن سے لیکر جس دن میں نے ان کو ڈولی میں ڈالا یہی دعا روزانہ کرتا رہا ہوں کہ اے خدا تو اس کو کسی بہت نیک کے پلے باندھیو۔“ میکے سے سُسرال میں حضرت ام المؤمنین دتی سے رخصت ہو کر قادیان آئیں۔نئی دلہنوں کی سسرال میں بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے۔چاؤ اور لاڈ ہوتے ہیں مگر حضرت اُم المؤمنین ایک ایسی جگہ تشریف لائیں۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب رشتہ دار آپ کے مخالف تھے اور ان کو آپ سے کوئی ہمدردی نہ تھی۔یہی وجہ تھی کہ حضرت اُم المؤمنین کو یہاں کی تنہائی سے بڑی تکلیف ہوئی ان کے ساتھ دتی سے ایک خادمہ فاطمہ بیگم ساتھ آئی تھیں۔ان کی بھی یہ حالت تھی کہ نہ ان کی کوئی سمجھتا تھا اور نہ وہ کسی Animal Husbandary ☆