سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 211 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 211

211 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کپڑا کہاں سے بنوالاتے مگر برادری کے لوگوں کا طعن و تشنیع کم نہ ہوا۔کا حضرت اُم المؤمنین نے خود بھی اپنی شادی کے متعلق سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۴۴ پر ایک روایت بیان فرمائی جس کے بعض ضروری فقرات یہ ہیں : ' پھر حضرت صاحب مجھے بیاہنے دتی گئے۔آپ کے ساتھ شیخ حامد علی اور لالہ ملا وامل بھی تھے۔نکاح مولوی نذیر حسین نے پڑھا تھا۔یہ ۲۷ محرم ۱۳۰۲ ہجری بروز پیر کی بات ہے۔اس وقت میری عمر اٹھارہ سال کی تھی۔حضرت صاحب نے نکاح کے بعد مولوی نذیرحسین کو پانچ روپے اور ایک مصلی نذر دیا تھا۔“ حضرت میر صاحب نے لکھا ہے کہ نکاح ۱۸۸۵ء میں ہوا۔مگر صحیح یہ ہے کہ نکاح نومبر ۱۸۸۳ میں ہوا تھا۔حضرت میر صاحب کو سن کے متعلق غلطی لگی وہ لکھتے ہیں: ” اس نکاح کے متعلق سوائے ان کی رفیق بیوی کے کسی کو علم نہ تھا۔حضرت صاحب کو چپکے سے بلا بھیجا تھا۔“ خواجہ میر درد کی مسجد میں بین العصر والمغرب مولوی نذیرحسین صاحب محدث دہلوی نے نکاح پڑھا۔وہ ڈولی میں بیٹھ کر آئے تھے کیونکہ بوجہ ضعف اور بڑھاپے کے وہ چل پھر نہیں سکتے تھے۔گیارہ سو روپیہ مہر مقرر ہوا۔حضرت میر صاحب نے عین وقت پر اپنے اور اپنی بیوی کے رشتہ داروں کو بلا بھیجا۔اس لئے وہ کچھ نہ کر سکے۔بعض رشتہ داروں نے گالیاں بھی دیں اور بعض دانت پیس کر رہ گئے۔رسم و رسوم جانبین کی طرف سے کوئی رسم و رسوم کا نام تک نہ لیا گیا۔ہر ایک کام سیدھا سادہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک کے حکم وارشاد کے مطابق ہوا۔جہیز کا سامان ایک صندوق میں بند کر کے کنجی حضرت صاحب کو دے دی گئی اور چپ چپاتے حضرت ام المؤمنین کو رخصت کر دیا۔۱۸ الغرض اس طرح سے نہایت سادگی کے ساتھ شریعت حقہ کے ارشاد کے مطابق اس پاک جوڑے میری تحقیق میں شادی کا سال ۱۸۸۴ء ہے۔عرفانی کبیر۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی نکاح اور شادی نومبر ۱۸۸۴ ء ہی لکھا ہے۔(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۵۸)