سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 210
210 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ راستبازوں کا راستباز تھا۔یعنی حضرت مسیح موعود اور اس وقت دنیا میں ایک ہی شخص تھا جو خدا کے حضور اپنی بیٹی کے رشتہ کے لئے ہمیشہ خدا کے آگے رویا کرتا تھا اور گڑ گڑایا کرتا تھا اور وہ تھا میر ناصر نواب۔خدا نے اس کی دعاؤں کو سنا اور قبول کیا اور خود حضرت مسیح موعود کو تحریک کی اور خود حضرت میر صاحب اور ان کی حرم کے دل میں باقی سب رشتوں سے نفرت پیدا کر کے صرف اور صرف حضرت مسیح موعود کیلئے انشراح پیدا کر دیا۔اس طرح سے یہ ابتدائی مراحل طے ہو کر اس مبارک اور مقدس جوڑے کی نسبت قرار پا گئی جس سے ایک نئی دنیا ، ایک نیا خاندان ، ایک نیا قصر امن تعمیر ہونے والا تھا۔جس رشتہ کے ذریعہ بنے والی دلہن خدیجہ ثانیہ بنے والی تھی اور خدیجہ ثانیہ کا شوہر بروز محمد بن کر جلوہ افروز ہونے والا تھا۔جس جوڑے کے عالم وجود میں لانے کی ایک غرض ایک موعود بیٹا جس کی خبر آنحضرت مے ن يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُلَهُ کی بشارت سے دی تھی پیدا کرنا تھا اور ایک پاک نسل پیدا کرنی تھی جن کی مخالفت مخالفوں کو یزیدی اور جن کی محبت سعادت اور خدا تعالیٰ کی رضا کا موجب بنانے والی ہے۔پس یہ مبارک جوڑا با وجود روکوں اور حالات کی ناموافقت کے خدا کی منشاء کے ماتحت نامزد ہو گیا۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوُدِ وَعَلَى الِهِ وَ خُلَفَائِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ۔آمین تقریب نکاح اور اس کی کیفیت جس تاریخ کو خط لکھا اس تاریخ سے آٹھ دن بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام دتی پہنچ گئے۔حافظ حامد علی صاحب بطور خادم کے ساتھ تھے۔اور لالہ ملا وامل صاحب اور ایک دو اور آدمی ساتھ تھے۔حضرت میر صاحب کی برادری کے لوگوں کو جب معلوم ہوا تو وہ بہت ناراض ہوئے کہ ایک بوڑھے شخص کو اور پھر پنجابی کو رشتہ دے دیا اور کئی لوگ اس ناراضگی کی وجہ سے شامل بھی نہ ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ساتھ کوئی زیور اور کپڑا نہ لے گئے تھے۔صرف ڈھائی سورو پیہ نفقد تھا۔اس پر بھی رشتہ داروں نے بہت طعن کئے کہ اچھا نکاح کیا ہے کہ نہ کوئی زیور ہے نہ کپڑا۔حضرت میر صاحب اور ان کے گھر کے لوگ لوگوں کو یہ جواب دیتے تھے کہ میرزا صاحب کے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ تعلقات نہیں ہیں۔گھر کی عورتیں ان کی مخالف ہیں پھر وہ جلدی میں آئے ہیں۔اس حالت میں وہ زیور