سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 199
199 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ قانونِ قدرت کا اس تعامل سے بھی پتہ لگتا ہے کہ کبھی کسی نبی کی بیوی سے کسی نے شادی نہیں کی۔ہم کہتے ہیں ان لوگوں سے جو اعتراض کرتے ہیں کہ ام المؤمنین کیوں کہتے ہو پوچھنا چاہیئے کہ تم بتاؤ جو مسیح موعود تمہارے ذہن میں ہے اور جسے تم سمجھتے ہو کہ وہ آ کر نکاح بھی کرے گا کیا اس کی بیوی کو تم اُم المؤمنین کہو گے یا نہیں ؟ مسلم میں تو مسیح موعود کو نبی ہی کہا گیا ہے اور قرآن شریف میں انبیاء علیہم السلام کی بیویوں کو مومنوں کی مائیں قرار دیا ہے۔افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ میری مخالفت اور بغض میں ایسا تجاوز کرتے ہیں کہ منہ سے بات کرتے ہوئے اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اس کا اثر اور نتیجہ کیا ہو گا۔جن لوگوں نے مسیح موعود کو شناخت کر لیا اور اس کو رسول اللہ ﷺ کے فرمودہ کے مطابق اس کی شان کو مان لیا ہے۔ان کا ایمان تو خود بخو دا نہیں اس بات کے ماننے پر مجبور کرے گا اور جو آج اعتراض کرتے ہیں یہ اگر رسول اللہ ﷺ کے وقت میں بھی ہوتے تب بھی اعتراض کرنے سے باز نہ آتے۔یہ بات خوب یا درکھنی چاہئے کہ خدا کا مامور جو ہدایت کرتا ہے اور روحانی علاج کا موجب ہوتا ہے۔وہ در حقیقت باپ سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔افلاطون حکیم لکھتا ہے کہ باپ تو روح کو آسمان سے زمین پر لاتا ہے مگر استاد زمین سے پھر آسمان پر پہنچا تا ہے۔باپ کا تعلق تو صرف فانی جسم کے ہی ساتھ ہوتا ہے۔مُر شد اور مُر شد بھی وہ جو خدا کی طرف سے ہدایت کے لئے مامور ہوا ہو اس کا تعلق روح سے ہوتا ہے۔جس کو فنا نہیں ہے۔پھر جب وہ روح کی تربیت کرتا ہے اور اس کی روحانی تولید کا باعث ہوتا ہے تو وہ اگر باپ نہ کہلائے گا تو کیا کہلائے گا۔اصل یہی ہے کہ یہ لوگ رسول کریم ﷺ کی باتوں پر بھی کچھ توجہ نہیں کرتے ور نہ اگر ان کو سوچتے اور قرآن کو پڑھتے تو یہ منکرین میں نہ رہتے۔‘۵ یہ بحث کسی مزید تو ضیح یا تشریح کی محتاج نہیں بلکہ اس سے نبوت مسیح موعود کا مسئلہ بھی کئی طور پر حل ہو جاتا ہے۔کیونکہ انبیاء کی بیویوں کو یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ وہ امہات المومنین کہلاتی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ آنے والے مسیح موعود کے متعلق تو جمہور مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ اس کی بیوی اُم المؤمنین ہی کہلائے گی اور ایسے معترضین کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ اگر رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہوتے تو