سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 198 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 198

198 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تھے۔جب تک کہ حضرت مسیح موعود کی تحریروں کی وجہ سے اصلی نام مشہور عالم نہ ہو گیا“۔یہ تینوں نام ایک حقیقت پر مشتمل ہیں۔نصرت جہاں بیگم نام کے معنی تو حضرت مسیح موعود نے خود فرمائے ہیں کہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔۴۔اگر چہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب نے لکھا ہے کہ وہابیت کے اثر کے ماتحت آپ کا نام حضرت نانا جان نے عائشہ بیگم کر دیا تھا۔مگر میں تو اسے الہی تقدیر سمجھتا ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ اس نصرت جہاں بیگم کو اس زمانہ کی خدیجہ اور عائشہ بنانا چاہتا تھا۔اس لئے کسی بھی اثر کے ماتحت اُن کے والد کی زبان سے بچپن ہی میں اُن کا نام عائشہ بھی رکھوا دیا تھا۔اُن کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ لڑ کی کل کو ایسے شخص کی بیوی بنے گی جسے خدا تعالیٰ نے بروز محمد ٹھہرایا ہے اور اس طرح وہ اس زمانے کی عائشہ بھی کہلائے گی۔ام المومین آپ کا خطاب ہے۔ام محمود آپ کی کنیت ہے۔آپ نے اپنے بعض اعلانات میں جو الفضل اور الحکم اور دیگر سلسلہ کے اخبارات یا رسالہ جات میں شائع کرائے اپنی کنیت ام محمود کو استعمال کیا ہے۔اُم المؤمنین آپ کا خطاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شادی کے بعد ہوا۔اس خطاب پر آج بھی بعض لوگ چڑتے ہیں اور وہ مائی صاحبہ یا بیوی صاحبہ کے لفظ سے یاد کرتے ہیں۔مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح آپ کے ناموں نصرت جہاں بیگم ، عائشہ بیگم ، خدیجہ بیگم میں ایک سر مخفی تھا جو اپنے وقت پر آ کر کھولا گیا۔اسی طرح اُم المؤمنین کا خطاب بھی اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا تھا۔چنانچہ ان19ء کی بات ہے ایک روز مغرب کی نماز کے وقت خدا تعالیٰ کا فرستادہ نبی اپنے خدام کے حلقے میں جلوہ افروز تھا کسی نے عرض کی کہ : ائم المؤمنین کا لفظ جو مسیح موعود کی بیوی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اس پر لوگ اعتراض کرتے ہیں“۔حضرت اقدس نے سن کر فرمایا: اعتراض کرنے والے بہت ہی کم غور کرتے اور اس قسم کے اعتراضات صاف بتاتے ہیں کہ وہ محض کینہ اور حسد کی بناء پر کئے جاتے ہیں۔ورنہ اگر نبیوں یا ان کے اظلال کی بیویاں اگر اُمہات المومنین نہیں ہوتیں ہیں تو کیا ہوتی ہیں؟ خدا تعالیٰ کی سنت اور