سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 197 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 197

197 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ وجہ سے بھی اعلیٰ اور ارفع تھی۔اس قابل تھی کہ وہ اس زمانہ کے نبی کی بیوی بنے اور اُن نوروں کی ماں بنے جن پر آئندہ دنیا کے امن کا انحصار ہے۔آپ کی تعلیم پانچ چھ سال کی عمر میں گھر کی چاردیواری میں قرآن کریم ، اُردونوشت و خواند کی تعلیم شروع ہوئی جو حضرت میر صاحب نے خود ہی کرائی۔حضرت اُم المؤمنین بچپن ہی سے زیرک، فہیم اور سلیقہ شعار تھیں۔حضرت میر صاحب کی زندگی کچھ ملازمت کے سلسلہ میں اور پھر قادیان میں ہجرت کی صورت میں پنجاب ہی میں گذری۔مگر حضرت میر صاحب کے گھر کا طور و طریق بالکل دتی کی قدیم تہذیب کے مطابق رہا۔اس لئے حضرت اُم المؤمنین کے باوجود پنجاب میں پرورش پانے کے دہلی کی طرز زندگی ، بود ماند کے طریقے وہی رہے۔باوجود اس کے کہ پنجابی زبان پر ان کو ایک قدرت حاصل ہے۔مگر اُردو زبان پر آپ کو آج بھی ایسا اقتدار ہے گویا کہ وہ دہلی سے کبھی جدا ہوئیں ہی نہیں۔جہاں جہاں حضرت میر صاحب اپنی ملازمت کے سلسلہ میں رہے ، حضرت اُم المؤمنین اپنے کنوار پنے میں وہاں رہیں اور شادی کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود ان مقامات پر ان کے والدین سے ملانے لے جایا کرتے تھے۔حضرت ام المؤمنین کا نام حضرت ام المؤمنین کا اصلی نام نصرت جہاں بیگم تھا۔مگر بعد میں حضرت میر صاحب نے وہابیت کے اثر کے ماتحت آپ کا نام عائشہ بھی رکھا اور خدا تعالیٰ کی وحی نے آپ کا نام خدیجہ رکھا۔اس لئے آپ کے تین نام ہوئے یعنی نصرت جہاں بیگم ، عائشہ بیگم ، خدیجہ بیگم۔خاندان کی بوڑھی بیگمات آپ کو نصیر الجہان کے نام سے بلایا کرتی تھیں۔چنانچہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن نے میری درخواست پر جو مضمون تحریر فرمایا۔اس میں آپ کے نام کے متعلق لکھا ہے: والد صاحب حضرت میر صاحب نے آپ کا نام بسبب وہابیت کے اثر کے عائشہ بیگم تبدیل کر دیا تھا گو اصلی نام نصرت جہاں تھا جسے بعض بوڑھی عورتیں خاندان کی اب بھی نصیر الجہان کے لفظ سے ادا کرتی ہیں۔مگر حضرت والد صاحب عائشہ بیگم کے نام سے ہی پکارا کرتے