سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 8
اس قابل ہو گیا کہ میں اپنا قلم اُٹھا سکوں۔سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اس مبارک خاتون کی سیرت و سوانح کا آغاز کر دیا ہے۔میرے معالج اگر چہ مجھے ابھی تک لکھنے کے کام کی اجازت نہیں دیتے مگر میں یقین کرتا ہوں کہ تھوڑا تھوڑا کام میرے لئے غذائے روح کا کام دے گا اور ایک بابرکت وجود کا ذکر میرے لئے بھی برکت کا باعث ہوگا۔اس لئے باوجود بیماری اور کمزوری کے میں اس کام کو شروع کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ خود اس کی تکمیل کے سامان مہیا فرما دے گا کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ خدا تعالیٰ کی معیت اور نصرت ہے اور خدا تعالیٰ نے بارہا اپنی وحی میں جو اپنے بندے، اس زمانہ کے راستباز مامور مرسل پر نازل فرمائی اس معنیت اور نصرت کا وعدہ فرمایا ہے اور فرمایا کہ إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ أَهْلِكَ اور پھر فرمایا کہ اِنّى مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِكَ هَذِهِ۔اس قسم کی صد ہا بشارتیں اور نصر تیں آپ کے وجود باجود کے لئے ازل سے مقدر ہیں۔اس لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ اس تصنیف کے ساتھ مجھے بھی برکت دی جائے گی اور کیا عجب کہ میں تنومند اور صحت مند کیا جاؤں۔میں اس قدر اس تمہید کولکھ چکا تھا کہ حضرت اُم المؤمنین اید ہا اللہ بنصرہ العزیز کی خادمہ میرے نیچے کے کمرے کے سامنے آ کر کھڑی ہوگئی اور اس نے مجھے کہا کہ میں اماں جان کی طرف سے آپ کے لئے تبرک لے کر آئی ہوں۔میرا سر نیاز مندی اور احسان کی روح سے جھک گیا۔اس تبرک کے بھیجے جانیکی وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنی بیماری کے ایام میں ایک خواب دیکھا کہ حضرت ام المؤمنین اید ہا اللہ نے مجھے اور مرزا سلیم بیگ صاحب کو ایک برتن میں کھانا دیا جو ہم دونوں نے کھایا۔ادھر میں نے یہ خواب دیکھا اُدھر حضرت والد صاحب نے سکندر آباد سے مجھے لکھا کہ حضرت اُم المؤمنین اید با اللہ بصرہ العزیز کا تبرک منگوا کر کھاؤ کہ اس میں برکت اور شفاء ہوگی۔اس خواب اور اس ارشاد کی تعمیل میں میری رفیقہ حیات حضرت اُم المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان سے دعا کی درخواست کے بعد تبرک کی درخواست کی جو آپ نے بڑی خوشی سے منظور فرمائی۔ان دنوں میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سندھ میں تشریف فرما ہیں۔اس لئے حضرت اُم المؤمنین ایدھا اللہ بنصرہ العزیز اکثر وقت اپنے برادر محترم یعنی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن کے ہاں گذارا کرتی ہیں۔آپ نے درخواست سن کر فرمایا کہ ہاں بہت اچھا، مگر جب کہ میں گھر یعنی