سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 9 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 9

9 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ الدار میں آ جاؤں گی اُس وقت بھیجوں گی۔چنانچہ اس بات پر تقریباً ۶،۵ دن گذر چکے تھے کہ حضرت ممدوحہ نے اپنے اس ناچیز خادم کی درخواست کو یا د رکھا اور خود بخودہی کھانا بھجوا دیا۔یہ بات اگر چہ معمولی ہے مگر اس کے اندر جو روح اور جو شفقت کام کر رہی ہے وہ بہت بڑی ہے۔حضرت ممدوحہ کی روح تو فیاضیوں سے بھری ہوئی ہے۔آپ کے احسانات ہزار ہا لوگوں پر ہیں۔اُن کا ذکر بھی اصل کتاب میں اپنی جگہ آ جائے گا۔وباللہ التوفیق۔اور وہ جو کچھ ہو گا آپ کے جود وکرم کے سمندر سے ایک قطرہ ہی ہوگا۔میری بچپن کی زندگی کا ایک واقعہ میری پیدائش اکتوبر ۱۸۹۷ء میں ہوئی۔۱۸۹۸ء میں والد صاحب قادیان ہجرت کر کے آگئے تھے۔اُن کا معمول یہ تھا کہ وہ اخبار کے کام امرتسر جاتے رہتے تھے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدمات کے سلسلہ میں گورداسپور جایا کرتے تھے۔گھر میں میں ایک ننھا بچہ اور والدہ صاحبہ ہوتی تھیں۔اس لئے تنہائی سے بچنے کے لئے حضرت والدہ صاحبہ مجھ کو لے کر حضرت اُم المؤمنین اید ہا اللہ کے پاس چلی جایا کرتی تھیں۔میری والدہ صاحبہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضرت ام المومنین اُن کو محبت سے ” بہو " کے لقب سے پکارا کرتی ہیں۔میں اگر چہ دواڑھائی سال کا بچہ تھا۔مگر گوشت کو بہت پسند کرتا تھا۔حضرت ام المؤمنین اید ہا اللہ کے باورچی خانے میں گوشت بھونا جا رہا تھا۔میں یہ دیکھ کر رونے لگا اور ضد کرنے لگا۔میری والدہ صاحبہ جنہوں نے بار ہا ہنستے ہوئے مجھے یہ کہانی سنائی ، فرمایا کرتی ہیں کہ میں تم کو اندر ہی اندر روکنے کی کوشش کرتی تھی کہ حضرت اُم المؤمنین کی نظر پڑ گئی۔فرمایا بہو! بچہ کیوں روتا ہے؟ والدہ نے کہا۔نہیں جی کچھ نہیں۔فرمایا۔نہیں۔کچھ تو ہے۔بتلاؤ۔تب والدہ نے ندامت کے رنگ میں دبی زبان سے کہا کہ بوٹی مانگتا ہے۔یہ سن کر پکانے والی کو حکم دیا کہ جلدی دو اور اپنے سامنے ایک برتن میں کچھ بوٹیاں نکلوا کر دے دیں۔میری والدہ صاحبہ بتلایا کرتی ہیں کہ میں وہ گرم گرم بوٹیاں کھاتا جاتا تھا اور منہ سے رال سی ٹپکتی تھی۔اس واقعہ کا مجھے بار ہا لطف آیا اور میں نے اس واقعہ کے اندر بار ہا اس سیر چشمی اور کرم کو دیکھا