سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 195
195 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایک بڑی مناسبت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان ایک شاہی خاندان تھا۔ہندوستان سے باہر جب کہ وہ سمرقند میں آباد تھے وہ سلطنت اور جاگیر کے مالک تھے اور ہندوستان میں آ کر پھر دریائے بیاس کے کنارے ایک بڑی جاگیر کے مالک ہوئے جو بعد میں ایک خود مختار حکومت کی صورت اختیار کر گئی تھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش سے قبل یہ حکومت سلطنت، شوکت، دولت سب ختم ہو گئی تھی اور آپ کے والد صاحب نے بڑے مصائب کا زمانہ دیکھا۔ایک دفعہ سکھوں نے ان کو بسر اواں کے قلعہ میں قید بھی کر دیا تھا وہ قادیان سے نکالے بھی گئے۔ان کے والد صاحب کو پیادہ پاہندوستان کا سفر بھی کرنا پڑا۔مگر برسب مشکلات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کے ساتھ ہی دور ہوگئیں اور خاندان مسیح موعود عنایات الہی کا مورد بن گیا۔چلنے لگی نسیم عنایات یار سے سے بالکل اسی طرح خواجہ میر درد کا گھرانہ اپنی دولت و ثروت ختم کر چکا تھا۔نواب خان دوران کی حکومت ، دولت لٹ کر ایران جا چکی تھی۔رہی سہی کسر غدر نے نکال دی۔دہلی سے یہ خاندان پیادہ پا نکلنے پر مجبور ہوا۔گھروں میں جو کچھ تھا وہیں چھوڑنا پڑا۔ملک سے بے ملک ہوئے۔گھر سے بے گھر ہوئے اور جس طرح خاندان مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۳۵ء میں نیم رحمت کو حضرت مسیح موعود کی پیدائش سے قبل چلتے دیکھا اور انہوں نے اطمینان کا سانس لیا، اور اُجڑے ہوئے گھر میں خاندان واپس آ گیا۔بالکل اسی طرح اس بابرکت رُوح کی پیدائش کے ساتھ ہی اس خاندان کی حالت بدل گئی اور خاندان کے دن فارغ البالی کی طرف عود کر آئے اور اس برکت کو والدین نے پہلے ہی محسوس کر لیا تھا اور یہ تاریخ کا ایک اہم واقعہ جو دونوں خاندانوں کی یکساں کیفیت کو بیان کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔الغرض یہ خاتون اسی طرح اپنے باپ کے خاندان کے لئے بچپن سے ہی اور اپنے بطن سے پیدا ہونے والے خاندان کے لئے ہمیشہ با برکت ثابت ہوئیں۔حضرت ام المؤمنین کی بچپن کی عمر تمام ان مقامات پر گذری جہاں جہاں حضرت میر صاحب کو ملازمت کے سلسلہ میں رہنا پڑا۔