سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 192
192 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ چلے آئے۔حتی کہ خواجہ محمد ناصر پر یہ راز پھر ایک دفعہ کھولا گیا اور بتلایا گیا کہ تم کو جو کچھ دیا گیا ہے وہ مسیح موعود پر جا کر ختم ہو جائے گا اور پھر جب مسیح موعود پیدا ہوئے اور ان کے ظہور کا وقت قریب آیا تو ان کو آسمان سے کہا گیا۔اشکر نعمتی رأیت خدیجتی اس پیشگوئی میں دو چیز میں قابلِ غور ہیں۔اوّل: نعمت۔دوسرے: خدیجہ۔جس چیز کا نام اللہ تعالیٰ نعمت رکھے۔اس کے پیچھے جو برکات ہو سکتے ہیں وہ ظاہر ہے۔ا۔پھر خدیجہ کا نام اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ جس طرح پہلی خدیجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنحضرت کے دعوئی سے قبل دی گئی۔اسی طرح یہ خدیجہ بھی حضرت مسیح موعود کے دعوی سے قبل دی جائے گی۔۲۔جس طرح اس خدیجہ کے وجود سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بڑا آرام ، بہت بڑی راحت ملی۔ویسے ہی اس خدیجہ سے بھی آپ کو آرام اور راحت ملے گی۔۔جس طرح اُس خدیجہ کا مال خدمت اسلام کے لئے صرف ہوا۔اس خدیجہ کا مال بھی اسلام کے لئے صرف ہوگا۔۔جس طرح اُس خدیجہ کے بطن سے خادمِ اسلام اولاد پیدا ہوئی۔اسی طرح اس خدیجہ کے بطن سے بھی خادم اسلام اولا د پیدا ہوگی۔۔جس طرح اُس خدیجہ کی اولاد کے لئے کچھ یزیدی کھڑے ہوئے تھے اس کی اولاد کے لئے بھی کچھ یزیدی کھڑے ہوں گے۔مگر نا کام کئے جائیں گے۔پس خدیجہ کے لفظ میں وہ سب کچھ پوشیدہ تھا جو پہلی خدیجہ کی زندگی میں ظہور پذیر ہوا۔اس لئے شدید مناسبت اور شدید تعلق کی وجہ سے اس زمانہ کی نصرت جہاں بیگم آسمان پر خدیجتہ اللہ کہلائی۔۔اس میں یہ راز بھی پوشیدہ تھا کہ جس طرح یہ بروز خدیجہ ہے اسی طرح اس کا شوہر بروز محمد ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔پس خدیجہ کے نام میں بہت سی پیشگوئیاں تھیں جو پوری ہو کر رہیں۔ان پیشگوئیوں میں ایسی نسل کو بھی عالم وجود میں لانا مقصود تھا۔جن کے ذریعے سے اسلام کو بڑی تقویت ملے گی۔چنانچہ ان پیشگوئیوں میں سے ایک پیشگوئی یہ تھی :