سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 182
182 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور امراء اپنے ہمراہیوں کے ساتھ ہو گئے۔نادرشاہ تلاوڑی میں تھا۔اسے خبر ہوئی تو وہ بھی آگے بڑھا۔اس کے ساتھ اس وقت ایک ہزار کرد،ایک ہزار قاچاری، ایک ہزار بختیاری، ایک ہزار بندوقچی تھے۔یہ چار ہزار سوار فوج سے علیحدہ کر کے بڑھا۔تین ہزار سوار تو چھپا دیے اور ۵۰۰ سوار بندوئی سعادت خان کی طرف اور ۵۰۰ سو خان دوران خان کی طرف بڑھے تاکہ ان کو باہر میدان میں لائیں۔اس تجویز میں نادرشاہ کو کامیابی ہوئی وہ دونوں باہر نکلے۔ان کے نکلتے ہی تین ہزار سوار جو چھپے ہوئے تھے انہوں نے یکدم حملہ کر دیا۔سخت خونریز لڑائی ہوئی۔نادرشاہ ایک ہزار افشار سواروں کے ساتھ ہر جگہ پہنچ کر فوج کا دل بڑھا رہا تھا۔باقی فوج الگ کھڑی رہی تا اشارہ ملنے پر آگے بڑھے۔شام تک بڑی شدت کی جنگ جاری رہی۔سعادت خاں، شیر جنگ اور خانِ دوران کا چھوٹا لڑکا قید ہو گئے۔خان دوران خان کو مہلک زخم آئے اور اسے اس کے خیمہ میں لے آئے۔ایک گولی اس کے ہاتھ میں لگی اور دوسری اس کے پہلو میں اور اس کا بڑا لڑکا مارا گیا۔نادرشاہ نے حکم دیا کہ سعادت خان، شیر جنگ اور خان دوران کے لڑکے کیلئے ایک خیمہ اس کے کیمپ میں نصب کیا جائے۔۱۸ ذیقعدہ کو خان دوران کا انتقال زخموں کی وجہ سے ہو گیا۔۲۰ تاریخ کو خان دوران کی نعش کیمپ سے کرنال لے گئے۔نادرشاہ جب دتی میں آیا تو اس کے قزلباشوں کا قیام خان دوران کے محل میں تھا۔نادرشاہ نے خان دوران اور مظفر خان کے ہاں کے جواہرات اور خزانہ اور سارا سامان ضبط کرلیا جو مال خان دوران خان کے ہاں سے ملا اس کی قیمت ایک کروڑ روپیہ سے کم بی تھی۔۱۳ مئی ۱۷۳۹ء کو محمد شاہ بادشاہ دتی نے خان دوران کے لڑکے احتشام خان کو خلعت سرا پا عطا کر کے داروغہ خاص ( داروغہ محلات ) مقرر کیا۔یہ نادر شاہ کے اس روز نامچہ کا اقتباس ہے جو سر بلند خاں میرزا زماں نے دہلی میں لکھا تھا۔اسے اس اقتباس سے واضح ہو جاتا ہے کہ خان دوران اول درجہ کے امراء میں سے تھا۔اس کا بیٹا وزیر اعظم تھا۔نظام الملک اور دیگر اراکین دربار بھی اس کے بعد شمار کئے جاتے تھے۔مظفر خان اس کا بھائی تھا اور ان کی مالی حالت کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ صرف خان