سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 173
173 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بھی پھانسی دے دی گئی تھی۔بعد میں یہ حقیقت کھلی مگر اب اس کا کیا علاج کیا جا سکتا تھا۔نانی اماں کا خاندان بہت پھیلا ہوا ہے۔لوہارو والوں سے بھی رشتہ داری پرانی چلی آتی ہے۔باقی عزیز دہلی ، بھوپال، بہار، جلیسر ، حیدر آباد دکن، جدہ، اجمیر اور قادیان وغیرہ مقامات میں پھیلے ہوئے ہیں۔بقول میرزا سلیم بیگ صاحب ہندوستان کے چاروں کھونٹوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور سب تعلیم یافتہ معزز عہدوں پر فائز ہیں۔جن کی کلی تفصیل اس جگہ نہیں آ سکتی۔ایک عجیب اتفاق ایک عجیب اتفاق ہے کہ جب سے یہ خاندان ہندوستان میں آیا ان کا تعلق مغلوں سے کچھ ایسا رہا کہ خاندان کے آدھے افراد مغل اور آدھے سید نظر آتے ہیں۔کہیں میاں مغل ہے تو بیوی سیدانی اور کہیں میاں سید ہے تو بیوی مغلانی اور یہ بھی اس لئے ہوا تھا تا کہ حضرت مسیح موعود سے رشتہ کرنے میں مسئلہ قومیت روک نہ بن سکے۔شادی حضرت سید بیگم صاحبہ کی شادی حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ ۶ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔اس وقت حضرت میر صاحب کے والد فوت ہو چکے تھے۔حضرت میر صاحب کا سنِ پیدائش ۱۸۴۶ء بنتا ہے۔قیاس یہ کہتا ہے کہ نانی اماں سید بیگم صاحبہ کی عمر بھی قریب قریب حضرت میر صاحب سے ۳ ۴ سال کم ہوگی۔کیونکہ شادی سے تین سال بعد حضرت ام المؤمنین نصرت جہان بیگم پیدا ہوئیں تو اس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت سید بیگم شادی کے وقت بالغ تھیں نیز حضرت میر صاحب کے یہ الفاظ کہ: ا سال کی عمر میں میری فہمیدہ اور دانا اماں نے نشیب و فراز زمانہ کو مد نظر رکھ کر میری شادی ایک شریف اور سادات کے خاندان میں کر دی اور میرے پاٹوں میں بخیال خود ایک بیڑی پہنا دی تا کہ میں آوارہ نہ ہوں۔اس باعث سے میں بہت سی بلاؤں اور ابتلاؤں سے محفوظ رہا۔۲۸ ان فقرات اور بعد کے اس علم سے کہ تین سال بعد حضرت ام المؤمنین پیدا ہوئیں۔یہی یقین کرنا پڑتا ہے کہ حضرت سید بیگم صاحبہ کی عمر پیدائش کے لحاظ سے حضرت میر صاحب کے برابر یا ۳ ۴ سال کم