سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 168
168 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سے دعائیں کی۔کہ اے خدا! تو ہی اس کے لئے سب کام بنائیو۔معلوم نہیں اس وقت کیساتھ قبولیت کا وقت تھا۔کہ اللہ تعالیٰ اس بیٹی کے صدقے میں مجھے یہاں لے آیا۔“ یہ روح ہے۔اس جواب کی ممکن ہے الفاظ میں مر در ایام سے کچھ فرق پڑ گیا ہو۔بھائی جی جب مجھے یہ واقعہ سنا رہے تھے ان کے چہرے کی ایسی حالت تھی۔گویا کہ وہ میر صاحب کو سامنے بیٹھے دیکھ رہے ہیں اور ان کی رقت قلب ان کے قلب پر اثر کر رہی تھی اور خود بھائی جی کی بھی اس وقت آواز بھرا آئی اور رقت سے آنکھیں لبریز تھیں۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اُم المؤمنین کی پیدائش کا واقعہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔اس وقت کوئی خاص گھڑی تھی۔دعا کی قبولیت کا خاص وقت تھا۔کیونکہ ایک بڑی پاکیزہ روح آسمان سے لائی جارہی تھی۔ملائکہ زمین پر اُترے ہوئے تھے۔جو زمین کو اپنی برکتوں سے مالا مال کر رہے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحب قبلہ حضرت اُم المؤمنین کے متعلق متواتر دعاؤں میں لگے رہے۔کیونکہ حضرت اُم المؤمنین کی شادی سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہی لکھا کہ : دعا کرو کہ خدا تعالیٰ مجھے نیک اور صالح داماد عطا کرے۔“ دعاؤں کی یہ کثرت اور حضرت میر صاحب جیسے با خدا انسان کی دن رات کی گریہ وزاری جہاں حضرت میر صاحب کی ذاتی سیرت پر ایک بڑائین اثر ڈالتی ہے۔وہاں حضرت اُم المؤمنین کے مقام کا بھی پتہ دے رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک رؤیا ۱۳ مارچ ۱۹۰۶ء کو حضور نے ایک رؤیا دیکھی کہ ”میر ناصر نواب صاحب اپنے ہاتھ پر ایک درخت رکھ کر لائے ہیں جو پھلدار ہے اور جب مجھ کو دیا تو وہ ایک بڑا درخت ہو گیا جو بیدا نہ توت کے درخت کے مشابہ تھا اور نہایت سبز تھا اور پھلوں اور پھولوں سے بھرا ہوا تھا اور پھل اس کے نہایت شیریں تھے اور عجیب تر یہ کہ پھول بھی شریں تھے مگر معمولی درختوں میں سے نہیں تھا۔ایک ایسا درخت تھا کہ کبھی دنیا میں دیکھا نہیں گیا میں اس درخت کے پھل اور