سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 166
166 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بھائی سے ناراض ہوتے تو فورا صلح میں بھی پیش دستی فرما یا کرتے تھے۔عرفانی کبیر سے ناراضگی اور صلح ابتدائی ایام میں ۱۸۹۸ء کی بات ہے۔جبکہ عرفانی کبیر مدرسہ تعلیم الاسلام کے ہیڈ ماسٹر تھے اور حضرت میر صاحب ناظم تھے۔کسی بات پر دونوں میں ناراضگی ہو گئی حضرت عرفانی کبیر نے چاہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے شکایت کریں۔حضرت اقدس متوجہ ہوئے ہی تھے کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے انہیں ڈانٹ دیا اور حضرت اقدس کے دریافت کرنے پر عرض کی کہ میں سمجھا دوں گا۔دوسرے دن حضرت مخدوم الملت نے حضرت میر صاحب کے مناقب بیان فرمائے۔فرمایا: یہ وہ شخص ہے جو حضرت ام المؤمنین کا باپ ہے وہ طبیعت میں بیشک تیز ہوں۔مگر بہت صاف باطن اور خیر خواہ ہیں۔تم ان سے صلح کر لو عرفانی کبیر نے ان کی بات مان لی اور چاہا کہ جا کر ان سے معذرت کریں۔مگر دیکھا کہ حضرت میر صاحب خود تشریف لا رہے ہیں۔آتے ہی بآواز بلند السلام علیکم کہا اور عرفانی کبیر کو پکڑ لیا اور اظہار محبت فرمایا۔ایک اور واقعہ جناب شیخ محمد اسمعیل صاحب سرساوی جو خود بھی تیز طبیعت رکھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت میر صاحب سے کسی بات پر ناراض ہو گئے۔یہ ۱۳ء کی بات ہے۔حضرت میر صاحب جب حج سے واپس آئے۔تو شیخ صاحب کی دکان پر آئے ان سے ملاطفت کی باتیں کیں اور فرمایا کہ : یہ دیچی اور رکابی ہے۔اس میں ہم مکہ مکرمہ میں کھانا پکاتے اور کھاتے تھے۔میں نے و ہیں ایام حج میں ہی نیت کر لی تھی کہ واپس آ کر آپ کو دوں گا۔اگر آپ خوشی سے لے لیں۔“ اس طرح شیخ صاحب کی دلداری بھی کی اور ان سے صلح بھی کر لی۔الغرض حضرت میر صاحب صلح کرنے میں بھی بہت پیش پیش تھے۔آپ کو یہ مقام کیسے حاصل ہوا ؟ حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی نے مجھے حضرت میر صاحب کی سیرت کا ایک عجیب واقعہ