سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 163
سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ 163 (۴) اہلبیت اگر حضرت میر صاحب اور ایڈیٹر الحکم کی وجہ سے بدنام ہوں تو ان کا برانہیں مانا چاہئے۔بدنامی کا سبب حضرت میر صاحب یا حضرت ایڈیٹر صاحب الحکم نہ تھے بلکہ خفیہ سازشیں، خفیہ ٹریکٹ ، خفیہ منصوبے، خفیہ انجمنیں تھیں جو ان لوگوں نے بنارکھی تھیں اور بعد کے واقعات نے سب کچھ طشت از بام کر دیا تھا۔(۵) حضرت میر صاحب کے جمع شدہ چندہ پر اعتراض۔یہ بھی ایک لغو اور فضول اعتراض تھا۔مزہ تو تب تھا کہ تم دو چار ایسے آدمیوں کو کھڑا کرتے جو مؤ کہ بعذاب قسم کھا کر کہتے کہ ہم نے حضرت میر صاحب کو اتنی اتنی رقوم دی تھیں اور وہ انہوں نے کھا لیں۔حضرت میر صاحب جو روپیہ لاتے تھے وہ صدر انجمن احمدیہ کے خزانہ میں جمع کروادیا کرتے تھے۔ان کی بنی ہوئی عمارتیں زبانِ حال سے آج پھر حضرت میر صاحب کی خدمات کا اعتراف کر رہی ہیں۔مسجد نور صدرانجمن کی نگرانی میں بنی۔نور ہسپتال کا روپیہ دو سال سے زائد مولوی محمد علی صاحب کے پاس امانت پڑا رہا اور بالآخر انہوں نے ہی اسے بنوایا۔ان کا دامن تو ان واقعات کے لحاظ سے پاک نظر آتا ہے اور پھر ان کی پاکیزگی پر دوسری بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ زندگی بھر حضرت مسیح موعود کے دامن سے وابستہ رہے۔خلافت اولی اور ثانیہ میں اپنی اطاعت کا یکرنگ ثبوت دیا اور آج وفات کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں بہشتی مقبرہ کے اس حصہ میں میٹھی نیند سور ہے ہیں جس پر با وجود انتہائی دشمنی کے تمہارے عمائدین اعتراض نہیں کر سکتے اور وہ جن کو یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ سلسلہ کے اصل بہی خواہ ہیں۔آج ان کا پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ کہاں ہیں اس دنیا میں بھی وہ الگ ہو گئے اور موت نے ان کی قبروں کو بھی دور کی زمین میں منتقل کر دیا۔ان کے عقائد بھی بدل گئے ان کے خیالات بھی بدل گئے ان کو مسیح موعود علیہ السلام کی ہر ایک چیز سے دشمنی ہوگئی۔یہی ایک چیز بطور حد فاصل اور سنگِ میل کے دنیا کو نظر آتی رہے گی۔بالکل یہی صورت دوسرے اعتراضوں کی ہے۔ان کی قلم اور زبان خلافت اولی ، خاندان مسیح