سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 161 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 161

161 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جاتے تھے۔ہرحد اور قانون سے باہر ہو گئے تھے۔شریعت کا قانون تو ایک مزدور اور گدا گر اور ایک بادشاہ کے لئے یکساں ہوتا ہے۔کیا تاریخ اسلام جبلہ کے ارتداد کو بھول سکتی ہے جو غستانیوں کا بادشاہ تھا۔مگر قانون شریعت کی زد سے بچنے کے لئے مرتد ہو گیا تھا۔پس جب قانونِ شریعت کسی کو نہیں چھوڑتا تو خواجہ صاحب جو مبلغ اسلام کے لباس میں تھے ان کے ڈاڑھی منڈوانے کے فعل کے متعلق میر صاحب سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اس کی تعریف کریں گے خود اس امر کی دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کے قلب میں شعائر اسلام کی کوئی عزت نہیں تھی۔معترض چاہتا ہے کہ حضرت میر صاحب ان لوگوں کی جاو بیجا تعریف کریں اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیتا ہے۔ان لوگوں کی حالت اس حد تک مسخ ہو چکی تھی کہ یہ چاہتے تھے کہ خواجہ صاحب مبلغ اسلام ہو کر بھی اگر ڈاڑھی منڈوا دیں تو ان کی مذمت نہیں تعریف کرنی چاہئے اور اہلِ بیت اگر لوگوں کی نیکی کی طرف بلائیں اور لوگ ان کی بات مان لیں تو پیر پرست بن جائیں۔العجب ! انہوں نے لکھا ہے کہ میر صاحب کبھی ان کی تعریف نہیں کرتے تھے یہ بھی غلط ہے۔چنانچہ میر صاحب کی تحریریں ان کی اس بات کی تردید کرتی ہیں۔حضرت میر صاحب حضرت مولوی غلام حسن صاحب کی نسبت فرماتے ہیں: ہیں یہاں مولوی غلام حسن خلق میں خوب خُلق میں احسن ہیں جماعت کے وہ یہاں سردار کل جماعت ہے ان کی تابعدار میں نے وہاں بہت راحت سنے ان سے کلام پر اُلفت حضرت میر حامد شاہ صاحب کی نسبت فرماتے ہیں : ملے مسجد میں مجھ کو حامد شاہ ان راضی رہے سدا الله خواجہ کمال الدین صاحب کے لیکچر کی نسبت فرماتے ہیں : خواجہ صاحب کا تھا وہاں لیکچر پر نہ مسرور میں ہوا سن کر ۲۴