سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 155 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 155

155 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سارا رمضان میں سفر میں رہا اسی چندہ کے درد سر میں رہا صبح سے شام تک رہا چلتا ایبٹ آباد رات کو پہنچا ایک جگہ فرماتے ہیں : میرے مولیٰ نے مجھے یہ فضل کیا تن دیا اور وہ تندرست دیا شکر حق پر تواں ہوا ہوں میں شصت سالہ جواں ہوا ہوں میں یہ نمونہ ہے ، اس محنت ، ہمت اور استقلال کا جو آپ نے اس سفر میں دکھایا۔ان مساعی کے سلسلہ میں ۱۹۰ ء میں آپ نے مسجد نور کے لئے رقم جمع کر کے دی اور وہ مسجد نور تیار ہوگئی۔ہسپتال پھر تین ہزار روپیہ کی رقم جمع کر کے نو رہسپتال بنوایا۔دَارُ الضُّعَفاً بہشتی مقبرہ کے قریب حضرت میر صاحب کی تحریک پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے ہمیں مکانوں کے لئے زمین دے دی اور آپ نے وہاں غرباء کیلئے ایک محلہ آباد کر دیا۔اس جگہ ایک کنواں اور مسجد بھی بنوائی۔بعد میں اس جگہ کا نام ناصر آباد رکھا گیا اور اب اسی نام سے مشہور ہے۔جہاں اب تک غرباء کی ایک جماعت آرام کرتی ہے۔اُن کے اندر رفاہِ عام کا بڑا جذ بہ تھا۔احمد یہ چوک میں انہوں نے پختہ اینٹوں کا فرش لگوایا اور وہاں کی نالیوں کی درستی کا کام کروایا۔وہ غرباء کے لئے کپڑوں اور بستروں، رضائیوں وغیرہ کا بھی انتظام کرتے تھے۔انہوں نے ایک مجلس ایسی بنائی تھی جس میں لوگ مل کر دعائیں کیا کرتے تھے۔ہفتہ میں ایک دفعہ لوگ اپنے گھروں سے کھانا لا کر اکٹھے بیٹھ کر کھاتے تھے۔اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو اپنے دوستوں کی ایک جماعت لے کر اس کی عیادت کو جاتے اور کبھی غریب اور معذور دوستوں کے کپڑے تک دھونے سے گریز نہ کرتے۔وہ افسر مقبرہ بہشتی بھی رہے۔الغرض انہوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں ہی کام کئے اور اُن کی تفصیل حیات ناصر میں مل سکتی ہے۔حضرت میر صاحب کی طبیعت میں غصہ تھا وہ جلد ناراض ہو جاتے تھے۔مگر فورا ہی صلح کر لیتے تھے۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کی اشاعت کے لئے بڑا جوش تھا۔یہ ہے مختصر سی تصویر اس۔