سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 156 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 156

156 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مرد کامل کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن کا بڑا اداب کرتے تھے۔ایک دفعہ ۱۹۰۵ء میں جبکہ حضرت اقدس دہلی تشریف لے گئے تھے۔حضرت میر صاحب بھی وہاں ہی تھے۔وہ وہاں بیمار ہو گئے تو فوراً حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کو بذریعہ تار طلب کیا اور لکھا کہ بلا توقف چلے آؤ۔ان کا بھی کمال تھا کہ تار ملتے ہی بغیر گھر میں اطلاع دیئے اور بغیر سامانِ سفر لئے کے روانہ ہو پڑے۔۲۱ خلافت اولیٰ کیلئے حضرت میر صاحب کا نام جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو گئے تو حضرت خلیفہ المسیح الاول نے اپنی تقریر میں جن لوگوں کو منصب خلافت کا اہل قرار دیا ان میں حضرت میر صاحب بھی ایک تھے۔آپ نے اپنی پہلی تقریر میں فرمایا: حضرت صاحب کے اقارب میں سے اس وقت تین آدمی موجود ہیں۔اوّل میاں محمود احمد وہ میرا بھائی بھی ہے۔میرا بیٹا بھی ہے۔اس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں۔قرابت کے لحاظ سے میر ناصر نواب صاحب ہمارے اور حضرت کے ادب کا مقام ہیں۔تیسرے قریبی نواب محمد علی خان صاحب ہیں۔۲۲ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحب کا مقام حضرت خلیفہ اول کی نگاہ میں کیا تھا۔گویا وہ ان کو اس مقام کے لوگوں میں سمجھتے تھے جو منصب خلافت پر فائز ہونے کے قابل تھے۔اس مقام کا بزرگ، بے نفس خدمت کرنے والا انسان ، سچ کہنے والا ، غریبوں سے محبت کرنے والا ، خدا کے دین کیلئے ذلیل سے ذلیل کام سے بھی پرہیز نہ کرنے والا۔یہ تھا میر ناصر نواب حضرت ام المؤمنین کا باپ۔مگر یہ بزرگ انسان ایک غدار گروہ کی آنکھوں میں بُری طرح سے کھٹکا کرتا تھا۔اُن کو اس کی سچائی اور خدا لگتی بات پسند نہ آتی تھی کیونکہ یہ بزرگ نفاق سے سخت نفرت کرنے والا تھا اور منافقوں کو سخت حقارت سے دیکھا کرتا تھا ان کو بھی معلوم تھا کہ یہ لوگ جو اپنے اندر کئی قسم کی روحانی امراض رکھتے ہیں مجھے اچھا نہیں جانتے۔چنانچہ وہ اکثر کہا کرتے تھے: ”سچی بات سعد اللہ کہے سب کے منہ سے اترار ہے اُن کی سچائی ہی اُن لوگوں کے لئے تکلیف کا موجب تھی۔اصل بات یہ ہے کہ