سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 152 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 152

اور اس موقعہ پر فرمایا: 152 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کہ جو کھڑکی وغیرہ میر صاحب نے جہاں رکھ دی ہے وہیں رہنے دی جائے۔کاش ! وہ معترضین اس امر سے اس پاک نفس بزرگ کے مقام کو سمجھ لیتے اور ٹھوکر سے بچ جاتے۔یہ تھی شان حضرت میر صاحب کی اور اس مقام کا تھاوہ انسان۔ایک اور موقعہ حضرت میر صاحب نے ایک دفعہ ایک کوٹ جو مستعمل تھا۔اپنے ایک عزیز کو بھیجا مگر اس عزیز نے مستعمل کوٹ لینے سے انکار کر دیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کے نبی اور مامور کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے وہ کوٹ محض اس لئے رکھ لیا کہ کہیں میر صاحب کو اس واپسی سے رنج نہ ہو۔یہ تھا حضرت میر صاحب کا احترام اور اُن کے جذبات کا احساس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلب میں۔عہد خلافت اولی اور حضرت میر صاحب خلافت اولی کے ایام میں حضرت میر صاحب نے قادیان کے غرباء کی حالت کا اندازہ لگا کر یہ چاہا کہ ان کی بہتری کی کوئی تجویز کی جائے۔چنانچہ اس غرض کے ماتحت حضرت میر صاحب نے مسجد نور، ناصر وارڈ، ہسپتال مردانه، زنانه، دار الفعفا ء کو مدنظر رکھ کر سارے ملک میں پھر کر چندہ جمع کرنا شروع کیا۔حضرت میر صاحب نے اس کام کے لئے شب و روز ایک کر دیا اور پیدل چل چل کر یہ کام کیا۔چنانچہ آپ نے دو حصوں میں اپنا سفر نامہ تصنیف فرمایا جو نظم میں ہے۔اس کے چند ٹکڑے نمونے کے طور پر یہاں درج کرتا ہوں۔جن سے ان کی محنت سعی اور تکلیف کا بخوبی پتہ لگ سکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔قصبہ قادیان کو کیوں چھوڑا کیوں عزیزوں سے اپنا منہ موڑا کیوں سفر اختیار تو نے کیا کیوں انہیں دلفگار تو نے کیا دین کے کام کے لئے میں چلا تا جماعت سے لاؤں میں چندا احمدی بھائیوں سے لاؤں مال دینی کاموں وہ لگاؤں مال