سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 144
144 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ موعود علیہ السلام کی خدمت کے لئے حضرت میر صاحب جیسا ایک انسان بھیج دیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر ایک چیز کو اپنی جان کر ان کی نگہداشت کرتا تھا۔ان کی ترقی کے لئے کوشاں تھا۔دشمنوں سے ان کی حفاظت کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ابتدائی زندگی تو بالکل ایک ایسے انسان کی تھی جو بالکل ہی یتیم ہو۔انہوں نے خود لکھا ہے۔لَفَاظَاتِ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكْلِي گھر کی بچی کچھی چیزیں میرے کھانے کیلے آتی تھیں۔ان کو خود ان زمینوں اور جائیدادوں کی طرف توجہ نہ تھی اور وہ اس مخمصہ میں پڑ کر دین کے کاموں میں روک نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ان کی جائیدا دان بچوں کے خزانہ کی طرح پڑی تھی جس پر گرنے والی دیوار تھی اور خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور خضر کو بھیج کر اس کی اصلاح کرا دی اور اس طرح اس خزانہ کو ضائع ہونے سے بچا لیا۔بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت میر صاحب کو بھیج دیا کہ وہ ان چیزوں کی حفاظت کریں جو کسی وقت سلسلہ کے لئے ایک شاندار جائیداد بنے والی تھیں۔گویا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان دنیا وی چیزوں کی طرف سے اپنی توجہ ہٹالی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کوئی آدمی ایسا موجود نہ تھا جو ایک درد اور ایک عشق سے ان کاموں کا بوجھ اپنے اوپر لے لیتا تو خدا تعالیٰ نے خود حضرت میر صاحب کو بھیج دیا جو جوانوں سے بڑھ کر باہمت تھے ، جو بڑے تجربہ کار تھے۔بڑے امین تھے۔جن کے لئے یہ گھر اب اپنا گھر ہو گیا تھا۔اُن سے بڑھ کر اور کون در دخواہ ہوسکتا تھا۔حضرت میر صاحب حضرت اقدس کو اور سلسلہ کو دو الگ وجود خیال نہ کرتے تھے اور یہ تھی بھی ایک حقیقت۔اس لئے حضرت میر صاحب حضرت صاحب کے خدمتگاروں کو لنگر سے کبھی روٹی وغیرہ دے دیا کرتے تھے۔ہمیشہ ہر جگہ کچھ طبائع ایسی آجاتی ہیں جو صرف اپنی ترقی کے سوا کسی دوسرے کی ترقی کو دیکھ نہیں سکتیں۔حضرت میر صاحب سادہ زندگی بسر کرنے والے درویشانہ رنگ کے بزرگ تھے۔وہ ایسے لوگوں کو کب پسند آ سکتے تھے۔ان کو حضرت میر صاحب کی ہر کام میں پیش قدمی ناگوار معلوم ہوتی۔چنانچہ ہم کو سلسلہ کے لٹریچر سے سب سے پہلا اعتراض یہ نظر آتا ہے کہ اصحاب نمود اندر ہی اندر اس امر