سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 135 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 135

135 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ممکن ہے کسی شخص کو حضرت میر صاحب کی یہ مخالفت ایک بُر افعل نظر آئے۔مگر اس واقعہ نے میرے دل میں تو اُن کی بڑی عزت پیدا کر دی اور میں اس امر کو ان کی صفائی قلب کی ایک بڑی دلیل سمجھتا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ میر صاحب کا طرہ امتیاز الحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ تھا۔انہوں نے جس چیز کو سچائی جانا اُسے بہادری سے قبول کیا اور جس چیز کو غلط سمجھا اُسے پوری طاقت سے مٹانے کی کوشش کی اور یہی اُن کی زندگی بھر کا کیریکٹر تھا۔سلسلہ کے اندر آ کر جس کسی شخص کے فعل کو انہوں نے سلسلہ کے مفاد کے خلاف جانا یا منافقت پر مبنی سمجھا اس کی پوری شدت سے مخالفت کی اور کبھی اس امر کی پرواہ نہیں کی کہ یہ فعل کس شخص سے سرزد ہوا ہے۔انہوں نے غلطی کو غلطی جانا خواہ وہ بڑے سے بڑے آدمی سے سرزد ہو۔اُن کا یہ وصف جو اُن کی زندگی کا عین کمال تھا لوگوں کی نگاہ میں خار کی طرح کھٹکا کرتا تھا۔اس لئے اُن کا نظریہ حضرت میر صاحب کی نسبت ایسا غلط ٹھہر گیا کہ انہوں نے ان کی نسبت طرح طرح کی غلط فہمیوں میں لوگوں کو مبتلا کرنا چاہا مگر ایک مؤرخ جو واقعات کی چھان بین کرنے کا عادی ہوتا ہے وہ سرسری نگاہ سے دیکھ کر لوگوں کے نظریے قبول نہیں کر سکتا۔حضرت میر صاحب نے خود بھی اس حقیقت سے پردہ اُٹھایا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ : ۱۸۸۹ء میں سلسلہ بیعت ( یہ بیعت اولی تھی جو حضرت منشی احمد جان صاحب کے مکان پر ہوئی ) لدھیانہ میں شروع ہوا۔اُس وقت میں احمدی نہیں ہوا تھا اور نہ میں حضرت صاحب کو مسیح و مہدی مانتا تھا۔لہذا میں نے بیعت نہیں کی تھی۔میں منافق نہیں تھا کہ بظاہر بیعت کر لیتا اور دل میں مرزا صاحب کو سچا نہ سمجھتا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے راستباز اور صاف گو بنایا ہے۔یہ بھی مجھ پر اللہ تعالیٰ کے افضال میں سے ایک بڑا فضل ہے“۔۱۳ الغرض حضرت میر صاحب نے اُس وقت بیعت نہیں کی۔حضرت میر صاحب کی بیعت ۱۸۹۲ء میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے پہلے سالانہ جلسہ کی بنیاد قادیان میں رکھی گئی۔اس جلسہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت میر صاحب کو مکرر، سہ کر رلکھ کر سالانہ جلسہ پر آنے کی دعوت دی۔ہ دراصل پہلا جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء میں ہوا تھا۔(عرفانی کبیر )