سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 133 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 133

133 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ا۔ایک بہت نیک اور بزرگ انسان تھے۔۲۔گھر کے لوگ اُن سے شدید نقار رکھتے تھے یہاں تک کہ وہ یہ بھی پسند نہ کرتے تھے کہ کوئی دوسرا بھی اُن سے کسی قسم کا نیک سلوک کرے۔۔وہ ان تکالیف کے مقابل میں کسی قسم کی بدسلوکی نہ کرتے تھے بلکہ صبر سے سب کچھ برداشت کرتے تھے۔- میر صاحب قبلہ اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی بڑا تعلق نہ رکھتے تھے مگر اس کے باوجود اُن پر یہی اثر تھا کہ آپ بہت نیک اور متقی ہیں۔جب میر صاحب قبلہ باہر چلے گئے تو آپ کی نیکی نے یہاں تک تقاضا کیا کہ گھر میں قدم تک نہ رکھا تا کہ مستورات کو اجنبی مرد کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ ہو۔۔اُس زمانہ میں حضرت صاحب کا وقت عبادت اور تصنیف میں گذرتا تھا۔یہ تاثرات جو قدرتی طور پر اس واقعہ سے نکلتے ہیں وہ اس رشتہ کیلئے اندر ہی اندر مؤید ہو گئے تھے۔جن کی تشریح و توضیح حضرت اُم المؤمنین کی شادی کے تذکرے میں آ سکے گی۔یہ واقعات ۱۸۷۷ء کے ہیں۔حضرت اُم المؤمنین کا نکاح یہاں تفصیلی حالات لکھنے مقصود نہیں ہیں مگر اس قد ربطور تاریخی واقعہ کے لکھتا ہوں کہ : حضرت میر صاحب کا یہاں سے جانے کے بعد کوئی خاص تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نہ رہا۔مگر جب براہین احمدیہ طبع ہوئی تو حضرت میر صاحب نے براہین احمدیہ کا ایک نسخہ منگوایا۔اس کا اثر یہ ہوا کہ حضرت میر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بعض امور کیلئے دعا منگوانے کیلئے خط لکھا جن میں سے ایک امر یہ تھا۔دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے نیک اور صالح داماد عطا کرے“۔خدا تعالیٰ کا یہ عجیب کام تھا کہ اس نے حضرت میر صاحب کے دل میں یہ تحریک ڈالی کہ وہ حضرت اقدس کو دعا کے لئے تحریک کریں اور اُدھر حضرت اقدس کو نئی شادی کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے