سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 122
122 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ واپسی کے وقت آپ کی عمر بارہ سال کی ہو جاتی ہے۔دہلی سے آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو آپ کے ماموں میر ناصر حسین صاحب کے پاس صوبہ پنجاب میں ضلع گورداسپور کے مقام مادھو پور میں بھیج دیا۔یہاں حضرت میر صاحب نے کس قدر تعلیمی ترقی کی اس کے متعلق کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ان کو خود اعتراف ہے کہ کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔آپ کے ماموں رتر چھتر والوں کے مرید تھے اور آپ کے سوتیلے بھائی خود گدی نشین تھے اور ان کی حالت مذہبی ایسی ہوگئی تھی کہ حضرت میر صاحب کا نور ایمان اس کا نام ” بدعت رکھتا تھا اور اس میں شک بھی نہیں کہ وہ طرح طرح کی بدعتوں میں مبتلا ہو چکے تھے اور وہاں بھی وہی قوالیاں اور عرس اور دین سے دور لے جانے والی باتیں ہو رہی تھیں۔حضرت میر صاحب کا قلب ان بدعتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔اس لئے آپ نے اس چھوٹی سی عمر میں سب امور کا موازنہ کیا اور آپ اہلحدیث ہو گئے اور یہ سب سولہ سال کی عمر سے قبل ہی ہوگا۔شادی خانہ آبادی ۱۶ سال کی عمر میں آپ کی والدہ محترمہ نے ایک شریف سادات کے خاندان میں آپ کی شادی کر دی۔حضرت میر صاحب اپنی بیوی سے ہمیشہ خوش رہے۔اس کا ہم الگ ذکر کریں گے۔شادی کے بعد آپ نے مولوی عبداللہ غزنوی کی بیعت کر لی اور آپ کے ساتھ ہی آپ کی حرم محترم نے بھی ان کی بیعت کر لی۔اُس وقت آمدنی کا کوئی خاص انتظام نہ تھا مگر ناصری گنج کے علاقے سے ایک پانچ ہزار کی جائیداد ان کو مل گئی تھی جس کی آمدنی پندرہ روپیہ ماہوار تھی۔ملازمت ۲۱ سال کی عمر میں یعنی ۱۸۶۵ء کے قریب آپ کی والدہ نے آپ کو پھر آپ کے ماموں ناصر حسین صاحب کے پاس بغرض کارآموزی بھیجا۔وہ اب لاہور میں کام کرتے تھے۔انہوں نے آپ کو نقشہ نویسی اور نہر کا کام سکھلا کر آپ کو ۱۸۶۶ء میں محکمہ نہر میں بعہدہ اوور سیر ملازم کر دیا اور آپ کی تعیناتی امرتسر میں ہوئی۔اسی سلسلہ ملازمت میں آپ کی تبدیلی موضع سٹھیالی اور کا ہنودان اور موضع تتلہ میں ہوئی جو متصل قادیان دیہات تھے۔حضرت میر صاحب محکمہ نہر میں ملازم تھے اور یہ محکمہ جس