سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 121 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 121

121 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ طواف کرتے رہے۔صبح کو معلوم ہوا کہ تیلی کے بیل کی طرح وہیں کے وہیں ہیں۔ایک کوس بھی سفر طے نہیں ہوا۔صبح کو نظام الدین اولیاء کی بستی میں پہنچے اور وہاں رہ کر چند روز اپنے مقتولوں کو روتے رہے۔زیادہ وقت یہ پیش آئی کہ اب بعض کے پاس کچھ کھانے کو بھی نہ رہا تھا کہ نا گہاں رحمت الہی نے دستگیری فرمائی۔ایک میرے ماموں صاحب محکمہ نہر میں ڈپٹی کلکٹر تھے ان کا کنبہ ہم سے پہلے پانی پت میں پہنچ چکا تھا۔جب ان کو ہماری پریشانی کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو چند چھکڑے دے کر ہمارے لینے کیلئے بھیجا وہ ہم سب کو ان چھکڑوں میں بٹھا کر پانی پت لے گئے وہاں پہنچ کر ذرا ہمیں آرام و اطمینان ملا۔“ سے اس دردناک واقعہ سے اس کیفیت اور حالات کا اندازہ بخوبی ہوسکتا ہے۔جس میں سے حضرت میر صاحب کو گذرنا پڑا پہلے یتیمی ، پھر غدر کے مصائب، آنکھوں کے سامنے عزیز واقارب کا قتل ، بھوک پیاس کی شدت ،صحرا کی خانہ بدوشی وہ کیا کچھ مصائب نہ تھے جو چھوٹی اور نھی عمر میں آپ کو برداشت نہ کرنے پڑے۔ان کی والدہ صاحبہ حضرت روشن آراء بیگم کی نیکی ،عفت، پاکیزگی اور خدا سے محبت کا اس سے پستہ چلتا ہے کہ انہوں نے آباد گھر میں سے اگر کوئی چیز اٹھائی تو وہ خدا تعالیٰ کا کلام پاک تھا اس کے سوا ان کو ہر ایک چیز اس محشرستان میں بیچ نظر آئی۔یہ تھی وہ ماں جس کا نور نظر تھا یہ بزرگ جس کی پشت سے وہ خاتون اعظم پیدا ہونے والی تھی جس کے ذریعہ سے دنیا کے نجات دہندے اور تاریکی کو دور کر نے والے نور پیدا ہونے والے تھے۔ان حالات میں آپ کی زندگی کا آغاز ہوا۔تعلیم تعلیم کا آغاز تو والد صاحب کی زندگی میں گھر یلو مکتب میں ہی ہوا۔جب غدر وغیرہ کی طوفانی حالت سے سکون ہوا اور لوگ دتی واپس آئے تو اس وقت حالت یہ تھی کہ لوگوں نے گھروں کی چوکھٹیں تک اُتار لی تھیں حضرت میر صاحب کے ایک ارشاد کے ماتحت اس وقت آپ کی عمر بارہ سال کی تھی۔تو اس لحاظ سے غدر کا واقعہ دس سال کی عمر میں ہوا ہو گا دو اڑھائی سال میں پھر دلی آباد ہوئی اس طرح